Asslam O Alaikum, I am online Quran teacher.If you have any child who wants to learn Quran,please contect me.Thank you for your help. Skype:mrazajeeswl123 imo:+923066515581 whatsapp:+923066515581 twitter: @AliRaza15605560
Adson
Sunday, September 1, 2019
*اسلام علیکم رحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*👈شان سیدنا عمر فاروق رضی اللّه عنہ⚘*
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر جہاد کرنے کے لیے روانہ فرمایا جنگ شروع ہوگئی اسلامی لشکر کھلے میدان میں لڑ رہا تھا کچھ دیر بعد دشمن اسلامی لشکر کو چار جانب سے گھیر کر پسپا کرنے کی کوشش میں لگ گیا جب جنگ فیصلہ کن مرحلےمیں داخل ہوئی تو اسلامی لشکر ’’سخت آزمائش ‘‘ کا شکار ہوگیا۔
یہ صورتحال تو نہاوند میں تھی ایران کے شہر ہمدان کے جنوبی حصے میں پہاڑوں کے پاس واقع ایک بستی جس کا نام ’’نہاوند‘‘ ہے دوسری طرف مدینہ منورہ میں عین اس وقت امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسجد نبو ی میں منبر رسول پر جلوہ افروز ہو کر جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔
(بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ خطبہ بھی ارشاد فرما رہے تھے اور اس کے ساتھ کفر و اسلام کی اس جنگ کو بھی دیکھ رہے تھے) جب اسلامی لشکر پر کفار کے غالب ہونے کے آثار دیکھے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہیں (مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے خطبہ کے الفاظ کو چھوڑا اور ) منبر سے اسلامی لشکر کی مدد فرماتے ہوئے لشکر کے سپہ سالار ’’حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ‘‘ کو ان الفاظ میں جنگی ہدایت ارشاد فرمائی:
’’یَاسَارِیَۃُ الْجَبَلَ یعنی اے ساریہ پہاڑ کو اپنی آڑ بنا کر لڑو۔‘‘
(حیرانگی کی بات کہ مدینہ منورہ سے) حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سینکڑوں میل دُور نہاوند کی سرزمین پر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ حکم سن لیا مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگ بہت حیران ہوئے کہ آج امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ دوران خطبہ ایسا کیوں کیا بہرحال اُدھر نہاوند میں سیدنا ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فوراً ’’لَبَّیْک‘‘کہتے ہوئے اس پر عمل کیا(اور پہاڑ کو آڑ بنا کر جب جنگ کی تو)۔
امیر المؤمنین کے حکم پر عمل سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا مجاہدین اسلام کی بہادری اور دلیری دیکھ کر کفار کے قدم اکھڑنے لگے اور میدان جنگ سے بھاگنے میں ہی عافیت جانی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ’’دستگیر ی‘‘ کے سبب لشکر اسلام نے فتح پائی۔
قاصد نے آکر تصدیق کی:
اس واقعے کے چند دن بعد حضرت سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قاصد آیا اور جنگ کی کیفیت بتاتے ہوئے کہنے لگا:
میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کر یہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو ۔
حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز ہے یہ کہا اور فوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کر کے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اور دم زدن میں اسلامی لشکرنے کفار کی فوجوں کو روند ڈالا کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا
(مشکوٰۃ باب الکرامات ، ص۵۴۶وحجۃ اللہ ج۲،ص۸۶۰وتاریخ الخلفاء،ص۸۵)
(دلائل النبوۃ، ج۶، ص۳۷۰۔ مشکاۃ المصابیح، ج۲، ص۴۰۱، حدیث:۵۹۵۴)
(اسد الغابۃ ، ساریۃ بن زنیم، ج۲، ص۳۶۴ملتقطا۔دلائل النبوۃ لابی نعیم، ص۳۴۵،الرقم:۵۲۸ملتقطا)
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺒﺮﮔﯿﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭨﯿﮏ ﻟﮕﺎ ﻟﯽ۔ ﺍٓﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﯽ ! ﺟﺎﻭٔ ﺍﭨﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻼ ﺩﻭ۔ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻣﺎﮞ ! ﮐﯿﺎ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮮ ﺑﯿﭩﯽ ! ﺟﺎﻭٔ ﺑﮭﯽ، ﺑﮭﯽ، ﺟﺎﻭٔ ﺑﮭﯽ، ﺑﮭﯽ، ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻼ ﺩﻭ، ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﮞ ! ﺍﮔﺮ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ
ﺗﻮ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺭﺏ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻧﯿﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﺍٓﺋﯽ، ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻡ ’’ ﺍﺳﻠﻢ ‘‘ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺮﺍﮦ ﺗﮭﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﺍﺳﻠﻢ ! ﺍﺱ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﮕﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍٓﮔﮯ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ۔ ﺟﺐ ﺻﺒﺢ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﺍﺳﻠﻢ ! ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﻭٔ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺲ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﮨﮯ؟ ﺍﺳﻠﻢ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻨﻮﺍﺭﯼ، ﻏﯿﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﺍٓﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ؟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺎﭖ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺳﺒﻘﺖ ﻧﮧ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺻﻢ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ! ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍٓﭖ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻧﮑﺎﺡ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﻭﺭ ( ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ) ﻋﺎﺻﻢ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺩﯼ۔ ﻋﺎﺻﻢ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺑﻨﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺑﻦ ﻣﺮﻭﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺎﺩﻝ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺭﺍﺷﺪ ﺗﮭﮯ
- *اگر آپ کو یہ تحریر (Post) پسند آئی ہو تو اپنے دوست و احباب کو ضرور شیئر کریں*
*سورۂ فاتحہ کے فضائل*
احادیث میں اس سورت کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے4فضائل درج ذیل ہیں :
(1) … حضرت ابوسعید بن مُعلّٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،
میں نماز پڑھ رہا تھا تو مجھے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ
نے بلایا لیکن میں نے جواب نہ دیا۔(جب نماز سے فارغ ہو کر بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوا تو)میں نے عرض کی:’’یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں نماز پڑھ رہا تھا ۔تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:
’’اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ ‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں بلائیں۔(انفال: ۲۴)
پھر ارشاد فرمایا:’’ کیا میں تمہیں تمہارے مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کریم کی سب سے عظیم سورت نہ سکھاؤں ؟پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا،جب ہم نے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کی:یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ نے فرمایا تھا کہ میں ضرور تمہیں قرآن مجید کی سب سے عظمت والی سورت سکھاؤں گا۔ارشاد فرمایا: ’’وہ سورت ’’ *اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘* ہے ،یہی ’’سبع مثانی‘‘ اور ’’قرآن عظیم ‘‘ہے جو مجھے عطا فرمائی گئی۔
(بخاری، کتاب فضائل القراٰن، باب فاتحۃ الکتاب، ۳ / ۴۰۴، الحدیث:۵۰۰۶) https://quranteaching123.blogspot.com/?m=1
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام ( دریائے نیل کے نام )
***************
🖊 واقعہ یوں ہے کہ آپ نے جب حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مصر کا گورنر مقررکیا - ایک دن مصر کے باشندے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر بولے کہ حضور! ہمارے ملک میں پہلے سے یہ رسم چلی آرہی ہے کہ جس سال دریائے نیل میں باڑھ نہیں آتی اور وہ خشک ہونے لگتا ہے تو ہم لوگ ایک کنواری لڑکی کو بہترین کپڑوں اور عمدہ زیوروں سے سجاکر اسے دریائے نیل کی بھینٹ چڑھا تے ہیں - جب وہ لڑکی دریا میں پھینک دی جاتی ہے تو دریا بڑے جوش وخروش سے بہنے لگتا ہے - پانی کی خوب بہتات ہوتی ہے پھر اسی پانی سے ہماری کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں امسال بھینٹ چڑھانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اور اس وقت دریائے نیل خشک ہوتا جارہا ہے اگر اس کو بھینٹ نہ دی گئی تو وہ بالکل خشک ہوجائےگا اور ہم لوگ قحط سالی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوجائیں گے -
حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ پہلے جو کچھ بھی ہوا وہ ہوا لیکن اب یہاں اسلام آگیا ہے - اسلام کا مزاج خونی رسم کو کبھی برداشت نہیں کرسکتا - مصری لوگ مجبور ہوکر دریائے نیل کو لڑکی کی بھینٹ نہ دے سکے جب انہوں نے دیکھا کہ اب دریائے نیل میں برائے نام پانی رینگ رہا ہے تو قحط سالی کے خوف سے وہ لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسری جگہ کوچ کرنے کی تیاری کرنے لگے - حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ نازک معاملہ دیکھ کر سرکار فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مدینہ منورہ ایک خط بھیجا جس میں دریائے نیل اور مصریوں کی خونی رسم کا حال تحریر کیا -
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام فرمان بھیجا کہ تم نے اس خونی رسم کو بند کرکے اچھا کیا - میں تمہارے اس دریائے نیل کے نام ایک پرچہ بھیج رہا ہوں تم اس پرچہ کو دریائے نیل میں ڈال دو - پرچہ کا مضمون یہ تھا
من عبد الله عمر امير المؤمنين الىٰ نيل مصر ط اما بعد فان كنت يجرئ من قبلك فلا تجر وان كان الله يجر يك فاسئل الله الواحد القهار ان يجريك -
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے بندے مسلمانوں کے حاکم عمر کی طرف سے دریائے نیل کے نام یہ خط ہے - اے دریا اگر تو اپنے آپ سے جاری رہتا ہے تو نہ جاری ہو اور اگر تجھے اللہ جاری رکھتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے، جو اکیلا زبردست ہے درخواست کرتا ہوں کہ تجھے جاری کردے -
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے مطابق حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا خط دریائے نیل میں ڈال دیا - دنیا حیرت میں تھی کہ کاغذ کے اس پرچہ سے دریائے نیل کیسے رواں ہوسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم کہ پرچہ پڑنے کے بعد دریائے نیل کے بہاؤ میں تیزی پیدا ہوتی گئی یہاں تک کہ رات گزر کر صبح ہوتے ہوتے اس میں سولہ گز پانی اوپر بڑھ گیا اور دریا موجیں مارکر بہنے لگا - نیز لڑکی کی بھینٹ دینے کی خونی رسم ہمیشہ کیلئے مٹ گئی
(حوالہ تعمیر ادب حصہ پنجم صفحہ ۸۳ تا ۸۵ )
مصنف: حضرت علامہ ومولانا بدر الدین احمد صاحب قبلہ قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ
سچ کہا کسی نے
جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہان زمانہ کی جھولی
محتاج کا جب یہ عالم ہے مختار کا عالم کیا ہوگا
Friday, August 30, 2019
Thursday, August 29, 2019
Tuesday, August 27, 2019
Surat No 5 : Ayat No 72
لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ وَ قَالَ الۡمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۷۲﴾
وہ لوگ یقینا کافر ہوچکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ " اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے " حالانکہ مسیح نے تو یہ کہا تھا کہ " اے بنی اسرائیل ! اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ۔ یقین جا نو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ، اللہ نے اس کے لیے جنت حرام کردی ہے ، اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے ، اور جو لوگ ( یہ ) ظلم کرتے ہیں ، ان کو کسی قسم کے یارومددگار میسر نہیں آئیں گے ۔
Monday, August 26, 2019
Friday, August 23, 2019
Saturday, August 17, 2019
Sunday, August 11, 2019
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
*مبارک ھے ان لوگوں پر جن کے پاس نصیحت کے الفاظوں کے ساتھ انکے اپنے نیک عمل ھیں جس دن قرآن اور مسلمانوں کے درمیان سے فرقے ہٹ جائیں وہ الل...
-
إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ...







