Adson

Sunday, September 1, 2019

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام ( دریائے نیل کے نام )


***************
  🖊 واقعہ یوں ہے کہ آپ  نے جب حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مصر کا گورنر مقررکیا - ایک دن مصر کے باشندے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر بولے کہ حضور! ہمارے ملک میں پہلے سے یہ رسم چلی آرہی ہے کہ جس سال دریائے نیل میں باڑھ  نہیں آتی اور وہ خشک ہونے لگتا ہے تو ہم لوگ ایک کنواری لڑکی کو بہترین کپڑوں اور عمدہ زیوروں سے سجاکر اسے دریائے نیل کی بھینٹ چڑھا تے ہیں - جب وہ لڑکی دریا میں پھینک دی جاتی ہے تو دریا بڑے جوش وخروش سے بہنے لگتا ہے - پانی کی خوب بہتات ہوتی ہے پھر اسی پانی سے ہماری کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں امسال بھینٹ چڑھانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اور اس وقت دریائے نیل خشک ہوتا جارہا ہے اگر اس کو بھینٹ نہ دی گئی تو وہ بالکل خشک ہوجائےگا اور ہم لوگ  قحط سالی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوجائیں گے -
حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ پہلے جو کچھ بھی ہوا وہ ہوا لیکن اب یہاں اسلام آگیا ہے - اسلام کا مزاج خونی رسم کو کبھی برداشت نہیں کرسکتا - مصری لوگ مجبور ہوکر دریائے نیل کو لڑکی کی بھینٹ نہ دے سکے جب انہوں نے دیکھا کہ اب دریائے نیل میں برائے نام پانی رینگ رہا ہے تو قحط سالی کے خوف سے وہ لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسری جگہ  کوچ  کرنے کی تیاری کرنے لگے - حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ نازک معاملہ دیکھ کر سرکار فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مدینہ منورہ ایک خط بھیجا جس میں دریائے نیل اور مصریوں کی خونی رسم کا حال تحریر کیا -
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام فرمان بھیجا کہ تم نے اس خونی رسم کو بند کرکے  اچھا کیا - میں تمہارے اس دریائے نیل کے نام ایک پرچہ بھیج رہا ہوں تم اس پرچہ کو دریائے نیل میں ڈال دو - پرچہ کا مضمون یہ تھا
من عبد الله عمر امير المؤمنين الىٰ نيل مصر ط  اما بعد فان كنت يجرئ من قبلك فلا تجر وان كان الله يجر يك فاسئل الله الواحد القهار ان يجريك -

  ترجمہ:  اللہ تعالیٰ کے بندے مسلمانوں کے حاکم عمر کی طرف سے دریائے نیل کے نام  یہ خط ہے - اے دریا اگر تو اپنے آپ سے جاری رہتا ہے تو نہ جاری ہو اور اگر تجھے اللہ جاری رکھتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے،  جو  اکیلا زبردست  ہے درخواست کرتا ہوں کہ  تجھے جاری کردے -

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے مطابق حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا خط دریائے نیل میں ڈال دیا - دنیا حیرت میں تھی کہ کاغذ کے اس پرچہ سے دریائے نیل کیسے رواں ہوسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم کہ پرچہ  پڑنے  کے بعد دریائے نیل کے بہاؤ میں تیزی پیدا ہوتی گئی یہاں تک کہ رات گزر کر صبح ہوتے ہوتے اس میں سولہ گز پانی اوپر بڑھ  گیا اور دریا موجیں مارکر بہنے لگا - نیز لڑکی کی بھینٹ دینے کی خونی رسم ہمیشہ کیلئے مٹ گئی
(حوالہ تعمیر ادب حصہ پنجم صفحہ ۸۳ تا ۸۵ )
مصنف: حضرت علامہ ومولانا بدر الدین احمد صاحب  قبلہ قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ

                        سچ کہا کسی نے
جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہان زمانہ کی جھولی
محتاج  کا جب  یہ  عالم  ہے مختار کا عالم کیا ہوگا

No comments:

Post a Comment