Adson

Friday, September 6, 2019

موت کا وقت جب آجاتا ہے

جب روح نکلتی ہے توانسان کامنہ کھل جاتاہے ہونٹ کسی بھی قیمت پرآپس میں چپکے ہوہے رہ نہیں سکتے روح پیرکوکھینچتی ہوئی اوپرکی طرف آتی ہے جب پھپڑوں اوردل تک روح کھینچ لی جاتی ہے اور انسان سانس ایک ہی طرف یعنی باہر ہی چلنے لگتی ہے یہ وہ وقت ہوتاہےجب چند لمحوں میں انسان شیطان اورفرشتوں کودنیامیں اپنے سامنے دیکھتاہے

ایک طرف ابلیس اس کےکان میں کچھ مشورے دیتاہے تودوسری طرف اسکی زبان اسکےعمل کےمطابق کچھ الفاظ ادا کرنا چاہتی ہے اگر انسان نیک ہوتواسکادماغ اسکی زبان کو کلمہ شہادت کی ہدایت دیتاہے
اگرانسان کافرہوبددین مشرک یادنیاپرست ہوتاہے تو اسکا دماغ کنفیوژن اورایک عجیب ھیبت کاشکارہوکرشیطان کےمشورے کی پیروی کرتا ہے اور بہت ہی مشکل سے کچھ الفاظ زبان سے اداکرنیکی بھرپورکوشش کرتاہے

یہ سب اتنی تیزی ہوتاہے کہ دماغ کودنیاکی فضول باتوں کوسوچنے کاموقع ہی نہیں ملتاانسان کی روح نکلتے ہوئے ایک زبردست تکلیف زھن محسوس کرتاہے لیکن تڑپ نہیں پاتاکیونکہ دماغ کوچھوڑکرباقی جسم کی روح اسکے حلق میں اکٹھی ہوجاتی ہے
اورجسم ایک گوشت کےبےجان لوتھڑے کی طرح پڑاہواہوتاہے
جس میں کوہی حرکت کی گنجاہش نہیں رھتی

آخرمیں دماغ کی روح بھی کھینچ لی جاتی ہے آنکھیں روح کولےجاتےہوے دیکھتی ہیں اسلیے کہ آنکھوں کی پتلیاں اوپرچڑھ جاتی ہیں یاجس سمت فرشتہ روح قبض کرکےجاتاہے اس سمت کی طرف ہوتی ہیں
اسکےبعدانسان کی زندگی کاسفرشروع ہوتاہےجس میں روح تکلیفوں کےتہہ خانوں سےلےکر آرام کےمحلات کی آہٹ محسوس کرنےلگتی ہےجیساکہ اس سےوعدہ کیا گیا ہے
جودنیاسے گیاواپس کبھی لوٹانہیں
صرف اس لیےکہ کیونکہ اسکی روح عالم اے برزخ کاانتظارکررھی ہوتی ہےجس میں اسکاٹھکانادےدیاجاےگا
اس دنیا میں محسوس ہونے والی طویل مدت ان روحوں کے لیے چند سیکنڈز سےزیادہ نہیں ہوگی یہاں تک کہ اگرکوہی آج سے کروڑوں سال پہلے ہی کیوں نہ مرچکاہو
مومن کی. روح اس طرح کھینچ لی جاتی ہے جیسے آٹےسےبال نکالاجاتاہے
گناہ گار کی روح خارداردرخت پرپڑے سوتی کپڑے کی طرف کھینچی جاتی ہے

اللہ سبحانه وتعالی ھم سبکو موت کے وقت کلمہ نصیب فرماکرآسانی کیساتھ روح قبض فرما

آمین یارب العالمین

*📓در س قـــــــــــرآن کـــریــــــم* *📗تـرجمـــہ : کنـــــــزالایمــــــــان* *📔تفســـــــیر : صــــراط الجـــنان* *📖ســــورہ البــــــــقرہ* *📜آیت نمبـــــــر (199)*



*🌻اعوذ  بالله من الشيطان الرجيم○*
*💕بسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم*
*ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۹۹)*
*📗 تــــرجــــــمہ :*
پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
*📔 تفســــــــــــــــــــــیر*
{ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ: پھر تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے دوسرے لوگ پلٹتے ہیں۔}قریش مزدلفہ میں ٹھہرے رہتے تھے اور سب لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف نہ کرتے، جب لوگ عرفات سے پلٹتے تو یہ مزدلفہ سے پلٹتے اور اس میں اپنی بڑائی سمجھتے، اس آیت میں انہیں حکم دیا گیا کہ وہ بھی سب کے ساتھ عرفات میں وقوف کریں اور ایک ساتھ واپس لوٹیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۹، ۱ / ۱۴۱)یہی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے ۔
اسلامی احکام سب کے لئے برابر ہیں :
اس سے معلوم ہواکہ اسلامی احکام برادریوں کے اعتبار سے نہیں بدلتے اور نہ ہی کسی کے رتبے اور مقام کی وجہ سے ان میں تبدیلی ہوتی ہے بلکہ امیر و غریب، گورے کالے، عربی عَجمی سب کے لئے اسلام کے احکام برابر ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں :قریش ایک مخزومی عورت کے بارے میں بہت ہی پریشان تھے جس نے چوری کی تھی، لوگ کہنے لگے کہ اس بارے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے گفتگو کون کرے؟ بعض آدمیوں نے کہا کہ حضرت اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سوا ا یسی جرأت اور کون کر سکتا ہے کیونکہ وہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے چہیتے ہیں۔جب حضرت اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس بارے میں حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے گفتگو کی تو آپ نے فرمایا:’’کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟پھر آ پ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا:’’بے شک تم سے پہلے لوگ اسی لئے ہلاک ہوئے تھے کہ جب کوئی مالدار چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی غریب آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے۔خدا کی قسم!اگرمحمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔(بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، ۵۶-باب، ۲ / ۴۶۸، الحدیث: ۳۴۷۵)
تاریخ اسلام میں مسلمان قاضیوں کے ایسے بے شمار واقعات موجودہیں جس میں انہوں نے کسی کے رتبے اور قرابت داری کی پرواہ کئے بغیر شریعت کے احکام کو نافذ کیا،انہی واقعات میں سے ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔چنانچہ حضرت سعد بن ابراہیم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ خلیفہ ولید بن یزید کی طرف سے مدینہ منورہ کے قاضی مقرر تھے ۔ایک مرتبہ ولید نے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اپنے پاس ملک شام میں بلایا، چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک بااعتماد شخص کو مدینہ منورہ میں قاضی بناکر خود ملک شام کی جانب چل دیئے۔ جب آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شام کی سر حد پر پہنچے تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو شہر سے باہر ہی روک دیا گیااور کافی عرصہ تک داخلہ کی اجازت نہ ملی ۔ ایک رات آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مسجد میں مصروف عبادت تھے کہ ایک شخص کو دیکھا کہ نشے کی حالت میں بدمست ہے او رمسجد میں گھوم رہا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے پوچھا : ’’یہ شخص کون ہے ؟ لوگو ں نے بتا یا: یہ خلیفہ ولید بن یزید کا ماموں ہے، اس نے شراب پی ہے اور اب نشے کی حالت میں مسجد کے اندر گھوم پھر رہا ہے۔ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو بہت جلال آیا کہ یہ کتنی دیدہ دِلیری سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر رہا ہے اور اس کے پاک دربار میں ایسی گندی حالت میں بے خوف گھوم پھر رہا ہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے غلام کودُرَّہ لانے کا حکم فرمایا۔ غلام نے درہ (کوڑا) دیا ۔ درہ لے کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا:’’ مجھ پر لازم ہے کہ میں اس پر شرعی سزا نافذ کروں چاہے یہ کوئی بھی ہو، اسلام میں سب برابر ہیں۔ چنانچہ آپ آگے بڑھے اور مسجد میں ہی اس کو80 کوڑے مارے ۔ وہ شخص80کوڑے کھانے کے بعد نہایت زخمی حالت میں خلیفہ ولید بن یزید کے پاس پہنچا۔ خلیفہ نے جب اپنے ماموں کی یہ حالت دیکھی تو بہت غضبناک ہوا اور پوچھا’’ تمہاری یہ حالت کس نے کی؟ کس نے تمہیں اِتنا شدید زخمی کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا: ایک شخص مدینہ منورہ سے آیا ہوا تھا، اس نے مجھے80کوڑے سزا دی اور کہا: ’’یہ سزا دینا اور حد قائم کرنا مجھ پر لازم ہے۔ خلیفہ نے جب یہ سنا تو اس نے فوراً حکم دیا کہ ہماری سواری تیار کی جائے، اسی وقت حکم کی تعمیل ہوئی اور خلیفہ کچھ سپاہیوں کو لے کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس پہنچ گیا اور آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے کہا:’’ اے ابو اسحاق ! تو نے میرے ماموں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا، اسے اتنی درد ناک سزا کیوں دی؟ حضرت سعد بن ابراہیم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا:’’ اے خلیفہ! تونے مجھے قاضی بنایا تا کہ میں شریعت کے احکام نافذ کروں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دوں۔ چنانچہ جب میں نے دیکھا کہ سرِعام اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جا رہی ہے اور یہ شخص نشے کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں گھوم پھر رہا ہے اور کوئی اسے پوچھنے والا نہیں تو میری غیرت ایمانی نے اس بات کو گوارا نہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی دیکھوں اور تمہاری قرابت داری کی وجہ سے چشم پوشی کروں اور شرعی حدو د قائم نہ کروں۔(عیون الحکایات، الحکایۃ *

*نعمتوں کا شکر اداکرنا سیکھیے*


                    السلام علیکم
ڈاکٹر خالد الشافعی مصری ہیں اور مصر کے نیشنل اکنامکس سٹڈی سنٹر میں منیجر ہیں۔ ان کے ایک حادثاتی تجربے سے کچھ سیکھیے۔ لکھتے ہیں:
اسی گزرے اٹھارہ مارچ کو عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکلا تھا کہ میرا توازن بگڑا، گرا اور پاؤں ٹوٹ گیا۔ ہسپتال گیا، ایکسرے کرایا، ڈاکٹر نے تشخیص کیا کہ پاؤں میں ٹخنے اور انگلیوں کو آپس میں جوڑنے والی ہڈی (پانچویں میٹیٹسل بیس) ٹوٹ گئی ہے۔ پاؤں پر پلستر ٹانگ اور گھٹنے کو ملا کر چڑھا دیا گیا۔ ڈاکٹر نے نوید سنائی کہ پلستر ڈیڑھ سے دو مہینے تک چڑھا رہے گا۔ میں بڑا حیران۔ یہ ڈاکٹر کہتا کیا ہے؟ بس ایک چھوٹا سا کنکر میرے پیر کے نیچے آیا تھا۔ نہ کسی گاڑی نے مجھے ٹکر ماری ہے اور نہ ہی میں کسی اونچائی سے گرا ہوں۔

اس دن شام کو گھر واپس پہنچنے پر مجھ پر بہت ساری حقیقتیں کھلنا شروع ہوئیں، بہت سارے سبق اور بہت ساری عبرتیں ملنا شروع ہوئیں۔ زندگی میں پہلی مرتبہ مجھ پر پاؤں کی اہمیت آشکار ہونا شروع ہوئی اور مجھے اپنے پاؤں کی ایسی ایسی خدمات اور ایسے ایسے استعمالات کا پتہ چلنا شروع ہوا جنہیں میں نے آج تک محسوس بھی نہیں کیا تھا۔ میرے لیے حمام جانا ایسا مشن بن گیا جس کے لیے باقاعدہ تیاری، منصوبہ سازی، ترتیب اور شدید توجہ کی ضرورت ٹھہری۔ وضو کرنا، نماز پڑھنا، حوائج ضروریہ کیلئے جانا ایسے کام بن گئے جن کیلئے مافوق الخیال تیاریاں کرنا پڑتی تھیں۔ اس حادثے کے دوسرے دن فجر کے وقت حمام چلا گیا، وضو کے بعد ایسا گرا کہ ابھی تک یقین نہیں آیا کہ بچ کیسے گیا ہوں، حالانکہ یہ والا گرنا سیدھی سیدھی موت یا کم از کم فالج تھا۔

گھر میں میری اکیلے نقل و حرکت بند ہوگئی، ضروری ٹھہرا کہ کوئی نہ کوئی میری خدمت یا میرا خیال رکھنے کیلئے ہمہ وقت موجود رہے۔سارے گھر والوں کیلئے باہر آنا جانا باقاعدہ صلاح مشورے، باری بندی اور ترتیب سے مشروط ٹھہرا۔ پورے گھر کا نظام اس چھوٹے سے حادثے کی وجہ سے درہم و برہم ہوگیا۔ میرے لیئے حمام بہت دور کی چیز بن گئی اور کچن تو دوسرے براعظم پر واقع مقام بن گیا۔ مجھے پہلی بار ایسے لوگوں کے محسوسات جاننے کا تجربہ ہوا جنہیں کسی مرض نے یا ان کے بڑھاپے نے بٹھا دیا ہو، یا جن کی زندگی دوسروں کی مدد کی محتاج بن گئی ہو یا دوسروں کی مدد کے بغیر ناممکن بن کر رُک گئی ہو۔ یقین کیجیے کہ میں، ایک پاؤں کی اتنی اہمیت بھی ہوسکتی ہے، اس کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میرا ایک پاؤں کیا خراب ہوا میری زندگی ہی معطل ہو کر رہ گئی، میرا سب کچھ ہی بدل کر رہ گیا۔

ایک دن کچھ وقت کے لیے گھر پر اکیلا تھا۔ بوڑھوں والے واکر کو پکڑ کر ایک ٹانگ کے ساتھ کچن میں گیا، اپنے لیے ایک چائے بنا کر ہٹا تو مجھ پر ایک نئی اور ایسی حقیقت کھلی جو کبھی بھی میرے دماغ میں نہ آسکتی تھی، اور وہ یہ کہ چائے کا کپ پکڑ کر واپس کیسے جاؤں تاکہ مزے سے ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھ کر پی سکوں۔ اب یہ عقدہ کھلا کہ چائے کا کپ پکڑ کر اپنے پیروں پر چلتے ہوئے آنا بھی ایک ایسی نعمت ہے جس پر بہتوں کا خیال ہی نہیں جاتا۔

ایک چھوٹے سے کنکر نے میری زندگی کے سارے معمولات ہی بدل کر رکھ دیئے۔ صبح کو اپنے پیروں پر چل کر نکلا تھا شام کو دوستوں کے کندھوں پر سوار لوٹا۔

دو اپریل کی رات کو مجھے ٹوٹے ہوئے پیر والی ٹانگ میں شدید اور ناقابل برداشت درد ہوا۔ آدھی رات کو بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچے۔ جلدی سے پلستر کاٹا گیا، سی ٹی سکین ہوا تو پتہ چلا کہ ٹانگ کی اندرونی وریدوں میں خون کا بہاؤ رُک گیا تھا اور پتہ یہ چلا کہ یہ پلستر کی وجہ سے ٹانگ میں حرکت نہ ہونے کی وجہ سے ہوا تھا۔ درد کی شدت سے میری دھاڑیں نکل رہی تھیں۔ اس بار مجھے ایک نئے تجربے سے گزرنا پڑا۔ مجھے یکے بعد دیگرے پیٹ میں کئی ٹیکے لگائے گئے۔ ان ٹیکوں کا اپنا درد ایک نئی قیامت تھی۔ اور اس قیامت خیز حالت میں، میں اس ٹیکے کے بارے میں نہیں جو میرے پیٹ میں لگا ہوتا تھا، بلکہ اس ٹیکے کے بارے میں سوچتا تھا جو لگائے جانے کیلئے ابھی تیار ہو رہا ہوتا تھا۔ مجھے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ کھانسی کا شدید دورہ پڑا تو ڈاکٹر کو شک گزرا کہ وریدوں میں خون کی رکاوٹ اندرونی سوجن پیدا کر رہی ہے اور ہو نہ ہو اس حالت میں میرے پھیپھڑے متاثر ہوچکے ہیں۔ مسجد کے سامنے پاؤں کے نیچے آنے والا کنکر اب میرے حلق میں اٹک جانے والا کانٹا بن گیا تھا۔ وعظ اور عبرت کی پوسٹیں لگانے والے کاتب کی زندگی بذات خود خوفناک قسم کی پوسٹ بننے جا رہی تھی۔

میری آنکھوں کے سامنے میری گزری زندگی کے سارے مناظر فلم کی طرح چلتے تھے۔ جو بات رہ رہ کر یاد آتی تھی وہ یہ تھی کہ جب میں عام سی زندگی جیتا تھا تو کتنی بے بہا نعمتوں میں گھرا ہوتا تھا۔ رہ رہ کر خیال آتا کہ اُن نعمتوں کا ویسا شکر ادا کیوں نہ کرتا تھا جیسا اُن کے شکر کا حق بنتا تھا۔ ہسپتال میں میرے ساتھ والے کمرے میں داخل ایک بزرگ کے کمرے سے ابھی ابھی انسٹرومنٹ ہٹا کر لے جا رہے تھے۔ اس منظر سے مجھے اوروں کا نہیں اپنا خاتمہ نظر آنا شروع ہوگیا تھا۔

ہسپتال میں ہر ایک بیڈ ایک کہانی تھا اور ہر کہانی کے پیچھے سبق، خواب، کامیابیاں، ناکامیاں اور امیدوں کے بنتے بگڑتے قصے۔ ہسپتال میں انواع و اقسام کے لوگ، مریض یا ملازمین۔ اور مریضوں کی پھر آگے قسمیں۔ اپنی صحت اور زندگی سے مایوس، یا پھر بھرپور امید والے بے خوف لوگ، ورثاء سب ہی خوف اور امید میں لٹکے ہوئے۔

ملازمین کی بھی اقسام۔ ڈاکٹر اپنی ڈگری کی قیمت سے واقف وجاہت اور متانت کے عکاس۔ نرسیں لگ بھگ سب کام نمٹاتے ہوئے مگر قدر و قیمت نہ پانے کی شاکی۔ صفائی کرنے والے اپنی حالت اور دگرگوں مالی حالت کے ہاتھوں ناکام زندگی سے شاکی اور اُکھڑے اُکھڑے۔

ہسپتال میں ہر مریض کی ساری زندگی جیسے رُکی ہوئی، سب پریشانیوں پر بھاری بس ایک پریشانی کہ کسی طرح ہسپتال سے نکل کر گھر پہنچ جائے۔ ملازمین کے لیے مریضوں کے درد اور بیماریاں بس ایک کام اور روٹین۔ ادھر ڈیوٹی ختم اُدھر وہ گھر روانہ۔ بھلے مریض کی جان ایسے نکلے یا ویسے۔ بہرحال میں نے جیسے تیسے رات ٹیکوں اور سرنجوں کے درد سہتے گزاری۔ جنہیں روز کے ٹیکے لگتے ہیں ان کے بارے میں سوچ سوچ کر مجھے ان سے ہمدردی محسوس ہو رہی تھی۔

میرے سینے کے ایکسریز(x-rays) لیے گئے اور اب دوسری صبح کا انتظار تاکہ ڈاکٹر نتیجہ بتائے۔ دوسرے دن میری ساری زندگی ڈاکٹر کے دو کلموں پر اٹکی ہوئی تھی جس نے ایکسریز دیکھ کر رپورٹ دینا تھی۔ ڈاکٹر ایکسرے اٹھائے وارڈ میں داخل ہوا اور میں نتیجہ جاننے کیلئے جاں بلب سولی پر لٹکا ہوا۔

الحمد للہ، ایکسرے بالکل کلیئر ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی خوفناک اور ڈراؤنی فلم کا اختتام۔

اچھا، اصلی بات تو ابھی وہیں کی وہیں۔ پاؤں ٹوٹا ہوا، پلستر لگانا ممنوع ٹھہرا۔ اب پاؤں کے علاج کی جگہ وریدوں کا علاج فوقیت پاچکا۔ مطلب صاف صاف یہی بنتا تھا کہ اب اپنے پیروں پر چلنے پھرنے کیلئے انتظار اور بھی لمبا ہوگا ۔پلستر نہ ہونے کی وجہ سے پاؤں سوج کر کُپا بن گئے، ساتھ ساتھ ٹانگ بھی نیلی پڑ گئی تھی۔ سارا زور ایک ٹانگ پر پڑنے کی وجہ سے، ٹھیک والی ٹانگ کے پاؤں اور گھٹنے میں شدید درد رہنے لگا۔ پیروں کے بجائے ہاتھوں سے سہارا لینے کی وجہ سے ہاتھ دُکھنے لگے، حرکت کم ہوئی تو وزن تیزی سے بڑھنا شروع ہوگیا ۔مہینہ بھر ٹوٹے پاؤں کو حرکت نہ دینے کی وجہ سے پیر کے مسلز تقریباً ایسے ہوگئے جیسے مر ہی چکے ہوں۔

انسان کی کمزوری اور ضعیفی پر پڑھا تو بہت تھا مگر ایسی کمزوری اور ضعف سے اب واسطہ پڑا تھا۔ اور یہ سلسلہ شیطان کی آنت کی طرح لمبے سے لمبا ہوتا جا رہا تھا۔

”کب میں عام بندے کی طرح چل سکوں گا“ کے بارے میں سوچنا خواب سا لگتا تھا۔ مجھے رہ رہ کر یاد آتا تھا کہ جب کوئی مجھ سے حال احوال پوچھتا تھا تو میں اکثر یکسانیت سے اکتایا ہوا مختصراً کہہ ڈالتا تھا کہ بس ٹھیک ہوں۔ اور یہ بس ٹھیک ہوں کتنی عظیم نعمت ہوتی ہے مجھے اب پتہ چل رہا تھا۔ کسی نعمت کو بس کہہ دینا انسان کو اس نعمت کی قدر ہی بُھلا دیتا ہے۔ خبردار، کہیں ایسا نہ ہو کہ نعمت کی قدر کا احساس اُس نعمت کے چِھن جانے کے بعد ہو۔ کسی نعمت کو کبھی بھی اتنا ہلکا نہ لیا جائے کہ اس نعمت کو نعمت سمجھنے کا شعور ہی جاتا رہے۔

مجھے بیماری اور جیل کی قید نے اس آیت کا  ٹھیک طریقے سے مطلب سمجھایا ہے کہ ”اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے بے شک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے۔“

میرے فیس بک کی ڈی پی پر میری چلتے ہوئے کی فوٹو لگی ہوئی ہے۔ میں جب بھی فیس بک کھولتا ہوں اور اپنی فوٹو پر نظر پڑتی ہے تو مجھے اپنے بس ٹھیک ہوں کے الفاظ عظیم القدر نعمت لگتے ہیں۔

ایک اور بات بتاؤں؟ آج پینتیسواں دن ہے اور ابھی تک میرا ماتھا سجدے کے لیے زمین پر نہیں پڑ سکا۔ چارپائی پر بیٹھے بیٹھے وضو اور لیٹے لیٹے نماز ہو رہی ہے کیونکہ اب میرا بیٹھنا بھی منع ہوچکا ہے۔ نماز کا شوق مجھے پاگل کیے جا رہا ہے۔

مصیبتوں کے بھی کیا رنگ نکلتے ہیں: مصیبت تاکہ صبر کرنا آجائے، مصیبت جو شکر کرنا سکھا دے، مصیبت جو اجر و ثواب کا باعث بن جائے، مصیبت جو سرزنش بن جائے، مصیبت جو  گزرے اوقات کی جانچ پڑتال کرنا بتا دے اور مصیبت جو ثابت قدمی سکھا دے۔

آخر میں، میں نے جو کچھ لکھا ہے اس کے لیے اپنی امی سے معافی مانگتا ہوں، کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ پڑھ کر بہت روئے گی۔ میں آج تک اپنی بیماریوں اور پریشانیوں کے سارے راز اُس سے اس لیے چھپاتا آیا ہوں کہ وہ میری وجہ سے کبھی بھی کبیدہ خاطر نہ ہونے پائے۔

اے اللہ اپنے ہر مریض بندے کو ایسی شفا دے جس کے بعد کوئی دوسری بیماری نہ ہو۔ آمین یا رب العالمین ۔

(ترجمہ: محمد سلیم)


Monday, September 2, 2019








📓در س قـــــــــــرآن کـــریــــــم*
*📗تـرجمـــہ : کنـــــــزالایمــــــــان*
*📔تفســـــــیر : صــــراط الجـــنان*
*📖ســــورہ البــــــــقرہ*
*📜آیت نمبـــــــر (197)*
*🌻اعوذ  بالله من الشيطان الرجيم○*
*💕بسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم*
*اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ-فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَۙ-وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ﳳ-وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘-وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ(۱۹۷)*
*📗 تــــرجــــــمہ :*
حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے تو جو ان میں حج کی نیت کرے تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے اور توشہ ساتھ لوکہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو۔
*📔 تفســــــــــــــــــــــیر*
{اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ: حج چند معلوم مہینے ہیں۔} حج کے چند احکام بیان کرنے کے بعد یہاں مزید حج کے احکام و آداب بیان کئے جا رہے ہیں۔ فرمایا گیا کہ حج کے چند مشہور و معروف مہینے ہیں یعنی شوال، ذوالقعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ۔ حج کے ارکان صرف ساتویں ذی الحجہ سے بارھویں تک ادا ہوتے ہیں۔ مگر شوال، ذیقعدہ کو بھی حج کے مہینے اسی لئے کہا گیا ہے کہ ان میں احرام با ندھنا بلا کراہت جائز ہے اور ان سے پہلے حج کا احرام باندھنا مکروہ ہے۔
{فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ:  تو جو ان میں حج کو لازم کرلے۔} یعنی جو شخص احرام باندھ کر یا ہَدی کا جانور چلا کرحج کو اپنے اوپر لازم کرلے اس پر یہ چیزیں لازم ہیں : ۔
(1)…رفث سے بچنا۔ رَفَث سے مراد ہے، ہم بستری کرنا یا عورتوں کے سامنے اس کا ذکر کرنا یا فحش کلام کرنا۔(ہدایہ، کتاب الحج، باب الاحرام،۱ / ۱۳۵)
البتہ نکاح کرسکتا ہے۔
(2)…فسوق سے بچنا۔ فسق کا معنیٰ ہے گناہ اور برائی کے کام۔
(3)…جدال سے بچنا ۔ جِدال سے مراد ہے ،اپنے ہم سفروں سے یا خادموں سے یا غیروں کے ساتھ جھگڑنا۔(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۷، ص۹۵)
یاد رہے کہ گناہ کے کام اور لڑائی جھگڑا تو ہر جگہ ہی ممنوع ہے لیکن چونکہ حج ایک عظیم اور مقدس عبادت ہے اس لئے اس عبادت کے دوران ان سے بچنے کی بطورِ خاص تاکید کی ہے۔
{وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ: اور تم جو بھلائی کرو ۔} برائیوں کی ممانعت کے بعد نیکیوں کی ترغیب دی گئی ہے کہ بجائے فسق کے تقویٰ اور بجائے لڑائی جھگڑا کے اخلاق حمیدہ اختیار کرو۔
{وَ تَزَوَّدُوْا: اور زادِ راہ لو۔} شانِ نزول: بعض یمنی لوگ حج کے لیے بغیر سامانِ سفر کے روانہ ہوتے تھے اور اپنے آپ کو متوکل یعنی’’توکل کرنے والا‘‘ کہتے تھے اور مکہ مکرمہ پہنچ کر لوگوں سے مانگنا شروع کردیتے اور کبھی غصب اور خیانت کے مرتکب بھی ہوتے ،ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ:  ۱۹۷، ۱ / ۱۳۹)
اور حکم ہوا کہ سفر کا سامان لے کر چلو ، دوسروں پر بوجھ نہ ڈالواور سوال نہ کرو کہ یہ تمام چیزیں توکل اور تقویٰ کے خلاف ہیں اور تقویٰ بہترین زادِ راہ ہے۔نیز یہ بھی سمجھادیا گیا کہ جس طرح دنیوی سفر کے لیے سامانِ سفر ضروری ہے ایسے ہی سفر آخرت کے لیے پرہیز گاری کا سامان لازم ہے۔
{وَ اتَّقُوْنِ: اور مجھ سے ڈرو۔}عقل والے کہہ کر اس لئے مخاطب کیا تاکہ لوگوں کو سمجھ آجائے کہ عقل کا تقاضا خوفِ الہٰی ہے۔ جو اللہ  تعالیٰ سے نہ ڈرے وہ بے عقلوں کی طرح ہے۔ عقل وہی ہے جو اللہ  تعالیٰ سے خوف پیدا کرے اورجس عقل سے آدمی بے دین ہو وہ عقل نہیں بلکہ بے عقلی ہے۔ ابو جہل بے عقل تھا اور حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عقلمند تھے۔
                                
☆▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬▬▬▬

Sunday, September 1, 2019

Learn the Qur'an: *اسلام علیکم رحمتہ اللہ وبرکاتہ*

Learn the Qur'an: *اسلام علیکم رحمتہ اللہ وبرکاتہ*: *مبارک ھے ان لوگوں پر جن کے پاس نصیحت کے الفاظوں کے ساتھ انکے اپنے نیک عمل ھیں جس دن قرآن اور مسلمانوں کے درمیان سے فرقے ہٹ جائیں وہ الل...

*اسلام علیکم رحمتہ اللہ وبرکاتہ*


*مبارک ھے ان لوگوں پر جن کے پاس نصیحت کے الفاظوں کے ساتھ انکے اپنے نیک عمل ھیں جس دن قرآن اور مسلمانوں کے درمیان سے فرقے ہٹ جائیں وہ اللّٰہ کا محبوب بندہ بن جائے گا زندگی میں آنے والی آزمائش ایک نیا سبق سیکھاتی ھے جوکہ خالق کے قریب کرتی جاتی ھے جب ایمان کمزور ھو جائے تو گھر کی عزت محفوظ نہیں رھتی جبکے غیرت رقص کرتی ھے جو شخص ناراض ھونے پر آپ کا راز کسی دوسرے پر ظاھر کر دے تو آپ انتخاب کرنے میں کامیاب اس لیے نہیں ھوئے کہ آپ اللّٰہ سے دور ہوگئے جب لوگ تمہیں تکلیف میں اکیلا چھوڑ دیں تو سمجھ جائیں اللّٰہ آپ کو اپنے راستے پہ لے جائیگا جب آپ جوانی میں زنا کریں گے تو آپکی معصوم اولاد آپکا قرض ادا کرے گی آپ اپنا مستقبل تو نہیں بدل سکتے اپنی عادت ضرور بدلو کیونکہ یہ ھی مستقبل بدلے گی*

*👈شان سیدنا عمر فاروق رضی اللّه عنہ⚘*


امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر جہاد کرنے کے لیے روانہ فرمایا جنگ شروع ہوگئی اسلامی لشکر کھلے میدان میں  لڑ رہا تھا کچھ دیر بعد دشمن اسلامی لشکر کو چار جانب سے گھیر کر پسپا کرنے کی کوشش میں لگ گیا جب جنگ فیصلہ کن مرحلےمیں داخل ہوئی تو اسلامی لشکر ’’سخت آزمائش ‘‘ کا شکار ہوگیا۔
یہ صورتحال تو نہاوند میں تھی ایران کے شہر ہمدان کے جنوبی حصے میں پہاڑوں کے پاس واقع ایک بستی جس کا نام ’’نہاوند‘‘ ہے دوسری طرف مدینہ منورہ میں عین اس وقت امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسجد نبو ی میں منبر رسول پر جلوہ افروز ہو کر جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔
(بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ خطبہ بھی ارشاد فرما رہے تھے اور اس کے ساتھ کفر و اسلام کی اس جنگ کو بھی دیکھ رہے تھے) جب اسلامی لشکر پر کفار کے غالب ہونے کے آثار دیکھے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہیں (مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے خطبہ کے الفاظ کو چھوڑا اور ) منبر سے اسلامی لشکر کی مدد فرماتے ہوئے لشکر کے سپہ سالار ’’حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ‘‘ کو ان الفاظ میں جنگی ہدایت ارشاد فرمائی:
’’یَاسَارِیَۃُ الْجَبَلَ یعنی اے ساریہ پہاڑ کو اپنی آڑ بنا کر لڑو۔‘‘

(حیرانگی کی بات کہ مدینہ منورہ سے) حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سینکڑوں میل دُور نہاوند کی سرزمین پر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ حکم سن لیا مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگ بہت حیران ہوئے کہ آج امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ دوران خطبہ ایسا کیوں کیا بہرحال اُدھر نہاوند میں سیدنا ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فوراً ’’لَبَّیْک‘‘کہتے ہوئے اس پر عمل کیا(اور پہاڑ کو آڑ بنا کر جب جنگ کی تو)۔
امیر المؤمنین کے حکم پر عمل سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا مجاہدین اسلام کی بہادری اور دلیری دیکھ کر کفار کے قدم اکھڑنے لگے اور میدان جنگ سے بھاگنے میں ہی عافیت جانی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ’’دستگیر ی‘‘ کے سبب لشکر اسلام نے فتح پائی۔
قاصد نے آکر تصدیق کی:
اس واقعے کے چند دن بعد حضرت سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قاصد آیا اور جنگ کی کیفیت بتاتے ہوئے کہنے لگا:
میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کر یہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو ۔
حضرت ساریہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی آواز ہے یہ کہا اور فوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کر کے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اور دم زدن میں اسلامی لشکرنے کفار کی فوجوں کو روند ڈالا کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا

(مشکوٰۃ باب الکرامات ، ص۵۴۶وحجۃ اللہ  ج۲،ص۸۶۰وتاریخ الخلفاء،ص۸۵)

(دلائل النبوۃ، ج۶، ص۳۷۰۔ مشکاۃ المصابیح، ج۲، ص۴۰۱، حدیث:۵۹۵۴)

(اسد الغابۃ ، ساریۃ بن زنیم، ج۲، ص۳۶۴ملتقطا۔دلائل النبوۃ لابی نعیم، ص۳۴۵،الرقم:۵۲۸ملتقطا)
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺒﺮﮔﯿﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭨﯿﮏ ﻟﮕﺎ ﻟﯽ۔ ﺍٓﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﯽ ! ﺟﺎﻭٔ ﺍﭨﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻼ ﺩﻭ۔ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻣﺎﮞ ! ﮐﯿﺎ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮮ ﺑﯿﭩﯽ ! ﺟﺎﻭٔ ﺑﮭﯽ، ﺑﮭﯽ، ﺟﺎﻭٔ ﺑﮭﯽ، ﺑﮭﯽ، ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻼ ﺩﻭ، ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﮞ ! ﺍﮔﺮ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ
ﺗﻮ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺭﺏ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻧﯿﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﺍٓﺋﯽ، ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻡ ’’ ﺍﺳﻠﻢ ‘‘ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺮﺍﮦ ﺗﮭﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﺍﺳﻠﻢ ! ﺍﺱ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﮕﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍٓﮔﮯ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ۔ ﺟﺐ ﺻﺒﺢ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﺍﺳﻠﻢ ! ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﻭٔ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺲ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﮨﮯ؟ ﺍﺳﻠﻢ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻨﻮﺍﺭﯼ، ﻏﯿﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﺍٓﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ؟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺎﭖ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺳﺒﻘﺖ ﻧﮧ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺻﻢ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ! ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍٓﭖ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻧﮑﺎﺡ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﻭﺭ ‏( ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ‏) ﻋﺎﺻﻢ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺩﯼ۔ ﻋﺎﺻﻢ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺑﻨﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺑﻦ ﻣﺮﻭﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺎﺩﻝ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺭﺍﺷﺪ ﺗﮭﮯ
  1. *اگر آپ کو یہ تحریر (Post) پسند آئی ہو تو اپنے دوست و احباب کو ضرور شیئر کریں*

*سورۂ فاتحہ کے فضائل*




احادیث میں اس سورت کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے4فضائل درج ذیل ہیں :

(1) … حضرت ابوسعید بن مُعلّٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،
 میں نماز پڑھ رہا تھا تو مجھے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ
نے بلایا لیکن میں نے جواب نہ دیا۔(جب نماز سے فارغ ہو کر بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوا تو)میں نے عرض کی:’’یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں نماز پڑھ رہا تھا ۔تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:
’’اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ ‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں بلائیں۔(انفال: ۲۴)
پھر ارشاد فرمایا:’’ کیا میں تمہیں تمہارے مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کریم کی سب سے عظیم سورت نہ سکھاؤں ؟پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا،جب ہم نے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کی:یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ نے فرمایا تھا کہ میں ضرور تمہیں قرآن مجید کی سب سے عظمت والی سورت سکھاؤں گا۔ارشاد فرمایا: ’’وہ سورت ’’ *اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘* ہے ،یہی ’’سبع مثانی‘‘ اور ’’قرآن عظیم ‘‘ہے جو مجھے عطا فرمائی گئی۔

 (بخاری، کتاب فضائل القراٰن، باب فاتحۃ الکتاب، ۳ / ۴۰۴، الحدیث:۵۰۰۶) https://quranteaching123.blogspot.com/?m=1

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام ( دریائے نیل کے نام )


***************
  🖊 واقعہ یوں ہے کہ آپ  نے جب حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مصر کا گورنر مقررکیا - ایک دن مصر کے باشندے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر بولے کہ حضور! ہمارے ملک میں پہلے سے یہ رسم چلی آرہی ہے کہ جس سال دریائے نیل میں باڑھ  نہیں آتی اور وہ خشک ہونے لگتا ہے تو ہم لوگ ایک کنواری لڑکی کو بہترین کپڑوں اور عمدہ زیوروں سے سجاکر اسے دریائے نیل کی بھینٹ چڑھا تے ہیں - جب وہ لڑکی دریا میں پھینک دی جاتی ہے تو دریا بڑے جوش وخروش سے بہنے لگتا ہے - پانی کی خوب بہتات ہوتی ہے پھر اسی پانی سے ہماری کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں امسال بھینٹ چڑھانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اور اس وقت دریائے نیل خشک ہوتا جارہا ہے اگر اس کو بھینٹ نہ دی گئی تو وہ بالکل خشک ہوجائےگا اور ہم لوگ  قحط سالی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوجائیں گے -
حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ پہلے جو کچھ بھی ہوا وہ ہوا لیکن اب یہاں اسلام آگیا ہے - اسلام کا مزاج خونی رسم کو کبھی برداشت نہیں کرسکتا - مصری لوگ مجبور ہوکر دریائے نیل کو لڑکی کی بھینٹ نہ دے سکے جب انہوں نے دیکھا کہ اب دریائے نیل میں برائے نام پانی رینگ رہا ہے تو قحط سالی کے خوف سے وہ لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسری جگہ  کوچ  کرنے کی تیاری کرنے لگے - حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ نازک معاملہ دیکھ کر سرکار فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مدینہ منورہ ایک خط بھیجا جس میں دریائے نیل اور مصریوں کی خونی رسم کا حال تحریر کیا -
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام فرمان بھیجا کہ تم نے اس خونی رسم کو بند کرکے  اچھا کیا - میں تمہارے اس دریائے نیل کے نام ایک پرچہ بھیج رہا ہوں تم اس پرچہ کو دریائے نیل میں ڈال دو - پرچہ کا مضمون یہ تھا
من عبد الله عمر امير المؤمنين الىٰ نيل مصر ط  اما بعد فان كنت يجرئ من قبلك فلا تجر وان كان الله يجر يك فاسئل الله الواحد القهار ان يجريك -

  ترجمہ:  اللہ تعالیٰ کے بندے مسلمانوں کے حاکم عمر کی طرف سے دریائے نیل کے نام  یہ خط ہے - اے دریا اگر تو اپنے آپ سے جاری رہتا ہے تو نہ جاری ہو اور اگر تجھے اللہ جاری رکھتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے،  جو  اکیلا زبردست  ہے درخواست کرتا ہوں کہ  تجھے جاری کردے -

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے مطابق حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا خط دریائے نیل میں ڈال دیا - دنیا حیرت میں تھی کہ کاغذ کے اس پرچہ سے دریائے نیل کیسے رواں ہوسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم کہ پرچہ  پڑنے  کے بعد دریائے نیل کے بہاؤ میں تیزی پیدا ہوتی گئی یہاں تک کہ رات گزر کر صبح ہوتے ہوتے اس میں سولہ گز پانی اوپر بڑھ  گیا اور دریا موجیں مارکر بہنے لگا - نیز لڑکی کی بھینٹ دینے کی خونی رسم ہمیشہ کیلئے مٹ گئی
(حوالہ تعمیر ادب حصہ پنجم صفحہ ۸۳ تا ۸۵ )
مصنف: حضرت علامہ ومولانا بدر الدین احمد صاحب  قبلہ قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ

                        سچ کہا کسی نے
جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہان زمانہ کی جھولی
محتاج  کا جب  یہ  عالم  ہے مختار کا عالم کیا ہوگا