Adson

Sunday, September 8, 2019

شہادت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ

یزیدنے جب فوراً اپنی خلافت کا اعلان کردیاتو اس نے امام حسین ؓ سے بھی اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے کا مطالبہ کردیا ،لیکن امام حسینؓ نے کسی کی پرواہ کیے بغیر اس بات کا سرعام اعلان کردیا کہ یزید خلافت کا اہل نہیں ہے ، اس لئے اسے خلیفۃ المسلمین نہیںبنایا جاسکتا ۔ یزید کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے والیٔ مدینہ ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ وہ امام حسین ؓ کو میری بیعت پر مجبور کرے اور ان کو اس معاملہ میں مزید کسی قسم کی مہلت نہ دے ۔

ولید کے پاس جب یہ خط پہنچا تو وہ فکر میں پڑگیا کہ اس حکم کی تعمیل وہ کس طرح کرے ؟ چناں چہ اس نے سابق والیٔ مدینہ مروان بن حکم کو مشورہ کے لئے بلایا ، اس نے کہا کہ اگر امام حسین ؓ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلیں تو ٹھیک، ورنہ ان کو یہیں پرشہید کردیا جائے ۔لیکن ولید ایک عافیت پسند شخص تھا، اُس نے مروان کی بات کی پرواہ کیے بغیر امام حسین ؓکے لئے راستہ کھول دیا اور وہ واپس چل پڑے۔ مروان نے ولید کو ملامت کی کہ تو نے موقع ضائع کردیا ، مگر ولید نے کہا کہ: ’’ اللہ کی قسم ! میں امام حسین ؓکوشہید کرنے سے ڈرتا ہوں ، امام حسین ؓکے خون کا مطالبہ جس کی گردن پر ہوگا وہ قیامت کے دن نجات نہیں پاسکے گا۔‘‘چنانچہ امام حسین ؓاپنے اہل و عیال کو لے کر مکہ مکرمہ آگئے ۔
اہل کوفہ کو جب اس بات کا علم ہوا کہ امام حسینؓ نے یزید کی بیعت سے انکار کردیا ہے تو کچھ حضرات سلیمان بن صرد خزاعی کے مکان پر جمع ہوئے اور آپ ؓ کو خط لکھا کہ ہم بھی یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں،آپ ؓفوراً کوفہ تشریف لے آئیں ، ہم سب آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلیںگے ۔اِس کے دو دن بعد ان لوگوں نے اسی مضمون کا ایک خط امام حسینؓ کی طرف لکھا اور چند دوسرے خطوط بھی آپؓ کے پاس بھیجے ،جن میں یزید کی شکایات اور اس کے خلاف اپنی نصرت و تعاون اور آپ ؓکے ہاتھ پر بیعت کرنے کا یقین دلایا گیا تھا ۔چندوفود بھی آپؓ کی خدمت میں بھیجے ۔ امام حسین ؓ نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ روانہ کیا اور ان کے ہاتھ یہ خط لکھ کر اہل کوفہ کی طرف بھیجاکہ :’’میں اپنی جگہ اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل ؓ کو بھیج رہا ہوں تاکہ یہ وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر مجھے ان کی اطلاع دیں۔ اگر حالات درست ہوئے تو میں فوراً کوفہ پہنچ جاؤںگا۔‘‘
مسلم بن عقیل ؓنے جب چند دن کوفہ میں گزارے تو انہیں اندازہ ہواکہ یہ لوگ واقعتایزید کی بیعت سے متنفر اور امام حسینؓ کی بیعت کے لئے بے چین ہیں ، چناں چہ انہوں نے چندہی دنوں میں اہل کوفہ سے اٹھارہ ہزار مسلمانوں کی امام حسینؓ کے لئے بیعت کرلی اور حسب ہدایت امام حسینؓ کو کوفہ آنے کی دعوت دے دی۔جب لوگوں میں یہ خبر مشہور ہوئی امام حسینؓنے کوفہ جانے کا عزم کرلیا ہے تو بجز عبد اللہ بن زبیرؓ کے اور کسی نے آپ کو کوفہ جانے کا مشورہ نہیں دیا ، بلکہ بہت سے حضرات آپ ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے اوریہ مشورہ دیا کہ آپؓ کوفہ ہرگز نہ جائیں۔لیکن امام حسین ؓکو کوفہ کی طرف روانہ ہونے کامکمل شرح صدر ہوچکا تھا اِس لئے آپؓ اپنی خداداد بصیرت اور دُور اندیشی کے سبب مؤرخہ۸ یا ۹ذی الحجہ ۶۰ھ؁کو مکہ مکرمہ سے کوفہ کے لئے روانہ ہوگئے ۔ کوفہ میں جب ابن زیاد کو آپ ؓکی آمد کی اطلاع ملی تو اُس نے مقابلے کے لئے پیشگی ہی اپنا ایک سپاہی ’’قادسیہ‘‘ کی طرف روانہ کردیا ۔ امام حسین ؓجب مقام’’ زیالہ‘‘ پر پہنچے تو آپؓ کو یہ الم ناک خبر پہنچی کہ آپؓکے رضاعی اور چچا زاد دونوں بھائیوں کو اہل کوفہ نے قتل کردیا ہے ۔ اب آپ ؓنے اپنے تمام ساتھیوں کو ایک جگہ جمع کرکے ان سے فرمایا کہ اہل کوفہ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے اور ہمارے متبعین ہم سے پھر گئے ہیں ۔ امام حسینؓ اور ان کے ساتھی ابھی راستہ میں چل ہی رہے تھے کہ دوپہر کے وقت دُور سے کچھ چیزیں حرکت کرتی نظر آئیں ، غور کرنے پر معلوم ہوا کہ گھڑ سوار ہیں ، اس لئے امام حسین ؓ اور آپ ؓ کے ساتھیوں نے ایک پہاڑی کے قریب پہنچ کر محاذ ِ جنگ بنالیا ۔
حر بن یزید کا ایک ہزار کا لشکر

ابھی یہ حضرات محاذ کی تیاری میں مصروف ہی تھے کہ ایک ہزار گھڑ سوار وں کی فوج حر بن یزید کی قیادت میں مقابلہ پر آگئی اور اِن سے مقابلہ کے لئے آکر پڑاؤ ڈال دیا ۔ حر بن یزید کو حصین بن نمیر نے ایک ہزار گھڑ سواروں کی فوج دے کر ’’قادسیہ‘‘ بھیجا تھا ، اس لئے یہ اور اِس کا لشکر آکر امام حسینؓ کے مقابل ٹھہر گئے ۔ امام حسینؓ نے حر بن یزید سے فرمایا:’’تمہارا کیا ارادہ ہے؟۔‘‘ حر نے کہا: ’’ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم آپؓ کو ابن زیاد کے پاس پہنچادیں ۔‘‘ امام حسین ؓنے فرمایا : ’’میں تمہارے ساتھ ہر گز نہیں جاسکتا ۔‘‘ حر نے کہا: ’’اللہ کی قسم ! پھر ہم بھی آپؓ کو یہاں تنہا نہ چھوڑیں گے۔‘‘
حر بن یزید کا اعترافِ حق

اس کے بعد حر نے کہاکہ: ’’مجھے آپؓ سے قتال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ، بلکہ حکم یہ ہے کہ میں آپ ؓسے اس وقت تک جدا نہ ہوں جب تک کہ آپؓ کو ابن زیاد کے پاس کوفہ نہ پہنچاآؤں ، اس لئے آپ ؓ کوئی ایسا راستہ اختیار کریں جو نہ کوفہ کو جاتا ہو اور نہ مدینہ کو ، یہاں تک کہ میں ابن زیاد کو خط لکھوں اور آپ ؓ بھی یزید یا ابن زیاد کو خط لکھیں شاید اللہ تعالیٰ میرے لئے کوئی مخلص پیدا فرمادے اور میں آپ ؓکے ساتھ مقابلہ کرنے سے کسی طرح بچ جاؤں!۔‘‘ امام حسینؓ نے ’’عذیب‘‘ اور ’’قادسیہ‘‘ کے راستہ سے بائیں جانب چلنا شروع کردیا اور حر بن یزید بھی اپنے لشکر سمیت ان کے ساتھ چلتا رہا ۔
حر بن یزید پر جاسوسوں کا تسلط

جب آپ ؓمقام’’ نینویٰ ‘‘پر پہنچے تو ایک گھڑ سوار کوفہ سے آتا ہوا نظرآیا ، یہ سب اس کی آمد میں اپنی اپنی سواریوں سے نیچے اتر گئے ۔ اس نے آکر امام حسینؓ کو تو نہیں البتہ حر بن یزید کو سلام کیا اور ابن زیاد کا خط اس کو دیا ،حر نے ابن زیاد کا خط پڑھ کر اس کا مضمون امام حسینؓ کو سنا یا اور ساتھ ہی اپنی مجبوری بھی ظاہر کی کہ: ’’اِس وقت میرے سر پر جاسوس مسلط ہیں ، اس لئے فی الحال میں آپ کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی مصالحت نہیں کرسکتا۔‘‘
عمرو بن سعد کا چار ہزار کا لشکر

اِس کے بعد ابن زیاد نے کوفہ سے عمرو بن سعد کو مجبور کرکے چار ہزار کا لشکر دے کر امام حسین ؓ کے مقابلے کے لئے بھیج دیا۔ عمرو بن سعد نے یہاں پہنچ کر امام حسینؓ سے کوفہ آنے کی وجہ پوچھی تو آپؓ ؓنے پورا واقعہ سنایا اور فرمایا کہ:’’ اہل کوفہ نے خود مجھے یہاں آنے کی دعوت دی ہے ۔ اگر اب بھی ان کی رائے بدل گئی ہو تو میں واپس مدینہ جانے کے لئے تیار ہوں ۔‘‘ عمرو بن سعد نے اسی مضمون کا ایک خط لکھ کر ابن زیاد کی طرف لکھاکہ امام حسینؓ واپس جانے کے لئے تیار ہیں ۔
پانی کی بندش

ابن زیاد نے جواب میں لکھا کہ: ’’ امام حسین ؓکے سامنے صرف یہ ایک شرط رکھوکہ وہ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلیں! جب وہ ایسا کرلیں گے تو پھر ہم غور کریں گے کہ اُن کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ اور ساتھ ہی عمر وبن سعد کو یہ حکم دیا کہ وہ امام حسینؓ کا پانی بند کردیں ۔‘‘ یہ واقعہ امام حسینؓ کی شہادت سے تین دن پہلے کا ہے ۔یہاں تک کہ جب یہ سب حضرات پیاس کی شدت سے نڈھال ہوئے تو امام حسینؓ نے اپنے بھائی عباس بن علیؓ کو تیس گھڑ سواروں اور تیس پیادوں کے ساتھ پانی لانے کے لئے بھیجا ، جب یہ لوگ پانی لینے کے لئے جارہے تھے تو راستہ میں عمرو بن سعد کی فوج سے ان کی مڈبھیڑ ہوگئی، لیکن اس کے باوجود پانی کی تقریباً بیس مشکیں یہ حضرات اپنے ساتھ بھر کر لے آئے ۔ امام حسین ؓنے عمرو بن سعد کے پاس پیغام بھیجا کہ: ’’ آج رات ایک دوسرے کے لشکروں کے ساتھ ہماری ملاقات ہونی چاہیے تاکہ ہم سب بالمشافہ ایک دوسرے کے سامنے گفتگو کرسکیں۔‘‘ عمرو بن سعد نے آپؓ کا یہ پیغام قبول کیا اور رات کو دونوں لشکروں نے باہم ایک دوسرے سے ملاقات کی۔
تین شرطیں

ملاقات میں امام حسین ؓنے اپنے متعلق عمرو بن سعد کے سامنے مندرجہ ذیل تین شرطیں رکھیں :
۱- ’’میں جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں۔
۲- میں یزید کے پاس چلا جاؤں اور خود اس سے اپنا معاملہ طے کرلوں ۔
۳-مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر پہنچادو ، وہ لوگ جس حال میں ہوں گے میں بھی اسی حال میں رہ لوں گا۔‘‘
عمرو بن سعد نے امام حسین ؓکی یہ تینوں باتیں سن کر ابن زیاد کی طرف دوبارہ ایک خط روانہ کیا، جس میں لکھاتھا کہ: ’’ اللہ تعالیٰ نے جنگ کی آگ بجھادی اور مسلمانوں کا کلمہ متفق کردیا ۔ مجھ سے امام حسین ؓنے ان (مذکورہ) تین باتوںکا اختیار مانگا ہے جن سے آپ کا مقصد پورا ہوجاتا ہے اور امت کی اسی میں صلاح و فلاح ہے۔‘‘ ابن زیاد نے جب یہ خط پڑھا تو وہ کافی متاثر ہوا ۔لیکن شمر بن ذی الجوشن جو ابن زیاد کے پاس ہی ایک طرف بیٹھا ہوا تھا ،کہنے لگا کہ: ’’ کیا آپ امام حسین ؓکو مہلت دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ قوت حاصل کرکے دوبارہ تمہارے مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہو ں؟ ‘‘
ابن زیاد نے شمر کی رائے کو قبول کرتے ہوئے عمر وبن سعد کی طرف اسی مضمون کا ایک خط لکھا اور اسے شمر کے ہاتھ روانہ کیا اوراسے ہدایت کی کہ اگر عمرو بن سعد میرے اس حکم کی فوراً تعمیل نہ کرے تو تو اسے قتل کردینا اور اس کی جگہ لشکر کا امیر تو خود بن جانا!۔شمر جب ابن زیاد کا خط لے عمرو بن سعد کے پاس پہنچا تو وہ سمجھ گیاکہ شمر کے مشورہ سے یہ صورت عمل وجود میں آئی ہے اور میرا مشورہ ردّ کردیا گیا ہے ، اس لئے عمرو نے شمر سے کہا کہ: ’’تونے بڑا ظلم کیا ہے کہ مسلمانوں کا کلمہ متفق ہورہا تھا اور تونے اس کو ختم کرکے قتل و قتال کا بازار گرم کردیا ہے ۔‘‘ بالآخر امام حسینؓ کو یہ پیام پہنچایا گیا ، توآپؓ نے اس کے قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔اتنے میں شمر کا لشکر سامنے آگیا ، آپ ؓکے بھائی حضرت عباس ؓ آگے کی جانب بڑھے اور اپنے مدمقابل حریف سے گفتگو شروع کی ، لیکن اس نے بلا مہلت قتال کا اعلان کردیا ۔ حضرت عباسؓ نے جب جنگ کا اعلان سنا تو انہوں نے جاکر امام حسینؓ کو اس کی اطلاع دے دی۔ امام حسین ؓ نے فرمایا : ’’ ان سے کہوکہ آج کی رات قتال ملتوی کردو،تاکہ آج کی رات میں وصیت ، نماز ، دعاء اور استغفار میں گزار لوں ۔‘‘ حضرت عباسؓ نے امام حسین ؓ کا پیغام جاکر شمر تک پہنچادیا۔ شمر ذی الجوشن اور عمر وبن سعد نے لوگوں سے مشورہ کیا اور آپؓ کو اس رات عبادت کرنے کی مہلت دے دی اور واپس چل دیئے۔
عاشوراء کی رات اہل بیتؓ کے سامنے تقریر

امام حسینؓ نے رات کو اپنے اہل بیتؓ اور اصحاب کو جمع کرکے ایک خطبہ دیا جس کا لب لباب یہ تھا: ’’میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں، راحت میں بھی اور مصیبت میں بھی ۔ اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تونے ہمیں شرافت نبوت ﷺسے نوازا ، ہمیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے ، جن سے ہم آیات سمجھیں اور ہمیں تونے قرآن پاک سکھلایا اور دین کی سمجھ عطا فرمائی ، ہمیں تو اپنے شکر گزار بندوں میں داخل فرما۔‘‘
اس کے بعد امام حسین ؓنے بنو عقیل کو مخاطب کرکے فرمایا : ’’تمہارے ایک بزرگ مسلم بن عقیل ؓشہید ہوچکے ہیںتمہاری طرف سے وہی ایک کافی ہیں ، تم سب واپس چلے جاؤ ، میں تمہیں خوشی سے اجازت دیتا ہوں ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ : ’’ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے کہ اپنے بزرگوں اور بڑوں کو موت کے سامنے چھوڑ کر اپنی جان بچا لائے ، بلکہ اللہ کی قسم! ہم تو آپ ؓپر اپنی جانیں اور اولاد و اموال سب کچھ نچھاور کردیں گے۔‘‘آپؓ کی ہمشیرہ حضرت زینب ؓبے قرار ہوکر رُونے لگیں تو آپ ؓنے انہیں تسلی دی۔ ہمشیرہ کو یہ وصیت فرماکر امام حسینؓ باہر آگئے اور اپنے اصحاب کو جمع کرکے تمام شب تہجد اور دعاء و استغفار میں مشغول رہے ۔ یہ عاشورہ کی رات تھی اور صبح عاشوراء (۱۰ محرم) کا دن تھا ۔
یوم عاشوراء کی صبح

دسویں محرم جمعہ یا ہفتہ کے دن فجر کی نماز سے فارغ ہوتے ہی عمرو بن سعد لشکر لے کر امام حسین ؓ کے سامنے آگیا ۔ اس وقت امام حسینؓ کے ساتھ کل بہتر (۷۲) اصحاب تھے ، جن میں سے بتیس (۳۲) گھڑ سوار اور چالیس (۴۰) پیادہ پا تھے ۔چنانچہ آپؓ نے بھی اس کے مقابلہ کے لئے اپنے اصحاب کی صف بندی فرمالی۔عمرو بن سعد نے اپنے لشکر کو چارحصوں میں تقسیم کرکے ہر حصہ کا ایک امیر بنالیا تھا ۔ ان میں سے ایک حصہ کا امیر حر بن یزید تھا ، جو سب سے پہلے ایک ہزار کا لشکر لے کر امام حسین ؓکے مقابلہ کے لئے بھیجا گیا تھا اور امام حسین ؓکے ساتھ ساتھ چل رہا تھا ، اس کے دل میں اہل بیت ؓاطہار کی محبت کا جذبہ بیدار ہوچکا تھا ، وہ اس وقت اپنی سابقہ کار روائی پر نادم ہوکر امام حسینؓ کے قریب ہوتے ہوتے یک بارگی گھوڑا دوڑا کر آپ ؓ کے لشکر میں آملا اور عرض کیا کہ میری ابتدائی غفلت اور آپ ؓکو واپسی کے لئے راستہ نہ دینے کا نتیجہ اس صورت میں ظاہر ہوا جو ہم دیکھ رہے ہیں ۔ واللہ! مجھے یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ لوگ آپ ؓکے خلاف اس حد تک پہنچ جائیں گے اور آپؓ کی کوئی بات نہ مانیں گے ، اگر میں یہ جانتا تو ہر گز آپ ؓ کا راستہ نہ روکتا ، اب میں آپ ؓکے پاس توبہ تائب ہوکر آیا ہوں ۔اس کے بعد امام حسینؓنے رؤسائے کوفہ کا نام لے لے کر پکارا : ’’اے شیث بن ربعی ، اے حجاز بن ابحر ، اے قیس بن اشعث ، اے زید بن حارث ! کیا تم لوگوں نے کوفہ بلانے کے لئے مجھے خطوط نہیں لکھے تھے ؟‘‘ لیکن یہ سب لوگ مکر گئے ۔امام حسین ؓنے فرمایاکہ: ’’میرے پاس تمہارے تمام خطوط موجود ہیں۔‘‘ اس کے بعد فرمایا : ’’اے لوگو! اگر تم میرا آنا پسند نہیں کرتے تو مجھے چھوڑ دو ، تاکہ میں کسی ایسی زمین میں چلا جاؤں جہاں مجھے امن ملے۔‘‘ قیس بن اشعث نے کہاکہ: ’’آپ اپنے چچا زاد بھائی ابن زیاد کے حکم پر کیوں نہیں اتر آتے ؟ وہ پھر آپ کا بھائی ہے ، آپ کے ساتھ برا سلوک نہیں کرے گا ۔‘‘ لیکن امام حسین ؓنے فرمایا کہ : ’’مسلم بن عقیلؓ کے قتل کے بعد بھی اگر تمہاری رائے یہی ہے تو اللہ کی قسم! میں کبھی بھی اس کو قبول نہ کروں گا ۔‘‘ یہ فرماکر آپ گھوڑے سے نیچے اتر آئے۔
حضرت زہیر بن القینؓ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں کونصیحت کی کہ : ’’تم آلِ رسولﷺکے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کرنے سے باز آجاؤ ، اگر تم اس سے باز نہ آئے تو خوب سمجھ لو کہ تم کو ابن زیاد سے کوئی فلاح نہ پہنچے گی ،بلکہ بعد میں وہ تم پر بھی قتل و غارت کرے گا۔‘‘
حر بن یزید ایک ہزار کا لشکرلے کر آیا مگر آپؓکی باتوں کا بہت اثر




ہوا ،اورکہنے لگا،’’اللہ کی قسم ! ہم آپؓ کو یہاں تنہا نہ چھوڑیں گے‘‘



جب گفتگو طویل ہونے لگی تو شمر ذی الجوشن نے اپنا پہلا تیر ان پر چلا دیا ، اس کے بعد حر بن یزید جو توبہ تائب ہوکر امام حسین ؓکے لشکر میں شامل ہوگئے تھے آگے بڑھے اور لوگوں کو مخاطب کرکے کہا: ’’ تم ہلاک و برباد ہوجاؤ ! کیا تم نے ان کو اس لئے بلایا تھا کہ جب یہ آجائیں تو تم ان کو قتل کردو ؟ تم نے تو کہا تھا کہ: ’’ ہم اپنا تن، من ،دھن سبھی کچھ ان پر قربان کردیں گے۔‘‘ اور اب تم ہی ان کے قتل کے درپے ہوگئے ہو ، ان کو تم نے قیدیوں کی مثل بنا رکھا ہے اور دریائے فرات کا جاری پانی ان پر بند کردیا ہے جسے یہودی ، نصرانی اور مجوسی سبھی پیتے ہیں اور علاقے کے خنزیر اس میں لوٹتے ہیں ، امام حسینؓاور ان کے اہل بیتؓ پیاس سے مرے جارہے ہیں ، اگر تم نے اپنی اس حرکت سے توبہ نہ کی اور اس سے باز نہ آئے تو یاد رکھنا !کل قیامت کے دن میدانِ حشر میں اللہ تعالیٰ تمہارا پانی بند کرے گا۔‘‘
اب حر بن یزید پر بھی تیر پھینکے گئے وہ واپس آگئے اور امام حسینؓ ؓکے آگے کھڑے ہوگئے ، اس کے بعد تیر اندازی کا سلسلہ شروع ہوگیا ، پھر گھمسان کی جنگ ہوئی ، فریق مخالف کے بھی کافی آدمی مارے گئے ، امام حسینؓکے بعض رفقاء بھی شہید ہوئے ۔ حر بن یزید نے امام حسین ؓ کے ساتھ ہوکر شدید قتال کیا اور بہت سے دشمنوں کو قتل کیا ۔ اس کے بعد شمر نے چاروں طرف سے امام حسینؓ اور ان کے رفقاء پر ہلہ بول دیا ، جس کا امام حسینؓ اور ان کے رفقاء نے بڑی بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا ، وہ کوفہ کے لشکر پر جس طرف سے حملہ کرتے میدان صاف ہوجاتا ۔ اُدھر دوسری طرف عمرو بن سعد نے جو کمک اور تازہ دم پانچ سو گھڑ سوار بھیجے وہ مقابلہ پر آکر ڈٹ گئے ، لیکن امام حسینؓ کے رفقاء نے ان کا بھی نہایت جرأت اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اور گھوڑے چھوڑ کر میدان میں پیادہ پا آگئے۔ اس وقت بھی حر بن یزید نے دشمنوں سے سخت قتال کیا، لیکن اب دشمنوں نے خیموں میں آگ لگانا شروع کردی تھی۔
گھمسان کی جنگ میں نماز ظہر کی ادائیگی

امام حسین ؓکے اکثر و بیشتر ساتھی شہید ہوچکے تھے اور دشمن کے دستے آپ ؓکے قریب پہنچ چکے تھے ۔ حضرت ابو شمامہ صائدیؓ نے امام حسین ؓسے عرض کیا کہ : ’’میری جان آپ ؓپر قربان ہو ، لیکن دل یہ چاہتا ہے کہ ظہر کی نماز کا وقت ہوچکا ہے ، نماز ادا کرکے اپنے پروردگار کے پاس جاؤں ۔‘‘ابو شمامہ صائدی ؓ نماز کی حسرت دل ہی دل میں لیے شہید ہوگئے ، لیکن امام حسینؓ نے اپنے چند اصحاب کے ساتھ نمازِ ظہر’’ صلوٰۃ الخوف‘‘ کے مطابق ادا فرمائی۔نماز ادا کرلینے کے بعد جنگ شروع ہو گئی ۔اب یہ لوگ آپؓ تک پہنچ چکے تھے ، زہیر بن القین ؓنے آپ ؓکی مدافعت میں سخت قتال کیا،وہ بھی شہید ہوگئے ۔ اس وقت امام حسینؓ کے پاس بجز اپنے چند گنے چنے رفقاء کے اور کوئی نہ رہا تھا اور بچے کھچے رفقاء بھی خوب اچھی طرح سمجھ گئے کہ اب ہم نہ امام حسین ؓکی جان بچا سکتے ہیں اور نہ اپنی جان ، اس لئے ہر شخص کی خواہش یہ ہوئی کہ میں امام حسینؓ کے سامنے سب سے پہلے شہید کیا جاؤں ، اس لئے ہر شخص نہایت شجاعت و بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کر تا رہا ، اسی اثناء میں امام حسینؓ کے بڑے صاحب زادے علی اکبرشعر پڑھتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے جس کا ترجمہ یہ ہے : ’’ میں حسین بن علیؓ کا بیٹا ہوں ، رب کعبہ کی قسم! ہم اللہ کے رسول ﷺ کے بہت قریب ہیں۔‘‘ اتنے میں مرہ بن منقذ آگے بڑھا اور ان کو نیزہ مار کر زمین پر گرادیا ،
مسلم بن عقیل ؓنے کوفہ میں رہ کر دیکھا کہ لوگ یزید

سے متنفر اور امام حسینؓ کی بیعت کے لئے بے چین تھے


پھر کچھ اور بدبخت آگے بڑھے اور لاش مبارک کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ۔ امام حسین ؓلاش کے قریب تشریف لائے اور فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ اس قوم کو برباد کرے جس نے تجھ کو قتل کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کیسے بے وقوف ہیں ؟ ۔‘‘پھر ان کی لاش اٹھا کر خیمہ کے پاس لائی گئی ۔ عمرو بن سعد نے حضرت حسنؓکے بیٹے قاسم بن حسن ؓکے سر پر تلوار ماری، جس سے وہ زمین پر گر پڑے اور ان کے منہ سے نکلا : ’’ہائے میرے چچا!(حسینؓ)‘‘۔ امام حسینؓنے بھاگ کر ان کو سنبھالا اور عمرو بن سعد پر تلوار سے جوابی وار کیا جس سے کہنی سے اس کا ہاتھ کٹ گیا ۔ امام حسینؓ بھتیجے کی لاش اپنے کندھے پر اٹھا کر لائے اور اپنے بیٹے اور دوسرے اہل بیت ؓکی لاشوں کے قریب لاکر رکھ دی۔
دُشمن کی فوج سے تن تنہا مقابلہ

ب امام حسینؓ تقریباً تن تنہا اور بے یار و مددگار رہ گئے تھے، لیکن آپؓ کی طرف بڑھنے کی کسی کو ہمت نہیں ہورہی تھی ، کافی دیر تک یہی کیفیت رہی کہ جو شخص بھی آپ ؓ کی طرف بڑھتا فوراًواپس لوٹ جاتا ، یہاں تک کہ قبیلہ کندہ کا ایک شقی القلب شخص مالک بن نسیر آگے بڑھا اور اس نے امام حسینؓ کے سر مبارک پر حملہ کردیا ، جس سے آپؓ شدید زخمی ہوگئے، اس وقت آپؓ نے اپنے چھوٹے صاحب زادے عبد اللہ بن حسین کو اپنے پاس بلایا اور ابھی اپنی گود میں بٹھایا ہی تھاکہ بنو اسد کے ایک بد نصیب شخص نے ان پر ایک تیر چلایا جس سے وہ بھی شہید ہوگئے، امام حسینؓنے اپنے معصوم بچے کا خون دونوں ہاتھوں میں لے کر زمین پر بکھیر دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعاء کی کہ : ’’اے اللہ! تو ہی ان بدبخت اور ظالموں سے ہمارا انتقام لینا۔‘‘
اب امام حسینؓ کی پیاس حد کو پہنچ چکی تھی ، آپؓ پانی پینے کے لئے دریائے فرات کے قریب تشریف لے گئے ، مگر حصین بن نمیر ایک ظالم شخص نے آپؓ کی طرف ایک تیر پھینکا جو آپؓ کے منہ پر جاکر لگا جس سے آپؓ کے دہن مبارک سے خون پھوٹنے لگ گیا۔
امام حسینؓ کی شہادت

اس کے بعد شمر ذی الجوشن دس آدمی اپنے ساتھ لے کر امام حسینؓ کی طرف آگے بڑھا ، آپؓ اس وقت پیاس کی شدت سے نڈھال اور زخموں سے چور ہوچکے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کا دلیرانہ مقابلہ کرتے رہے اور جس طرف سے آپؓ آگے بڑھتے یہ سب کے سب وہاں سے بھاگتے نظر آتے تھے ۔ شمر نے جب یہ دیکھاکہ امام حسینؓ کو قتل کرنے میں ہر شخص لیت و لعل سے کام لے رہا ہے تو اس نے آواز لگائی کہ :’’ سب یک بارگی ان پر حملہ کردو ۔‘‘ اس پر بہت سے بدنصیب آگے بڑھے اور نیزوں اور تلواروں سے یک بارگی امام حسینؓ پر حملہ کردیا اور اس طرح ان ظالموں کا دلیرانہ مقابلہ کرتے کرتے بالآخر کار امام حسین ؓ نے جام شہادت نوش فرمالیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
اہل بیتؓ کا ابن زیاد سے مکالمہ

عمرو بن سعد دو روز کے بعد بقیہ اہل بیتؓ امام حسینؓ کی بیٹیوں،بہنوں اور بچوں کو ساتھ لے کر کوفہ کے لئے نکلاہی تھا کہ انہیں امام حسینؓ اور اُن کے اصحاب کی لاشیں پڑی ہوئی نظر آئیں ، عورتوں اور بچوں نے جب یہ منظر دیکھا تو کہرام مچ گیا، گویا آسمان و زمین رونے لگ گئے۔ عمرو بن سعد نے جب اہل بیتؓ کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا تو اُس وقت امام حسین ؓ کی ہمشیرہ حضرت زینب رضی اللہ عنہانے بہت میلے اور خراب کپڑے پہن رکھے تھے اور اُن کی باندیاں اُن کے ارد گرد تھیں، وہ ایک طرف جاکر خاموش ہوکر بیٹھ گئیں، ابن زیاد نے پوچھا: ’’یہ ایک طرف جاکر علیحدہ بیٹھنے والی کون ہے؟۔‘‘حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کوئی جواب نہ دیا، ابن زیاد نے تین مرتبہ اسی طرح دریافت کیا، مگر حضرت زینب رضی اللہ عنہا اسی طرح خاموش رہیں، جب کسی باندی نے کہا کہ : ’’ یہ زینب بنت فاطمہ ؓہیں۔‘‘ تو ابن زیاد بولا : ’’شکر ہے اللہ کا جس نے تمہیں رُسوا کیا اور قتل کیااور تمہاری بات کو جھوٹا کیا۔‘‘ اِس پر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کڑک دار لہجے میں بولیں: ’’شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمیں محمد مصطفی ﷺکے نسب سے شرف بخشااور قرآنِ مجید میں ہمارے پاک ہونے کو بیان کیا۔ رُسوا وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔‘‘یہ سن کر ابن زیاد غصہ سے بھڑک اُٹھا اور کہنے لگا کہ:’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارے غیظ سے شفاء دی اور تمہارے سرکش کو ہلاک کیا۔‘‘ حضرت زینب رضی اللہ عنہاکا دل بھر آیا، وہ اپنے تئیں سنبھال نہ سکیں، اس لئے بے اختیاررونے لگیںاور فرمانے لگیں: ’’اگر یہی تیری شفاء ہے تو تو اسی کو اپنی شفاء سمجھے رکھ!۔‘‘
امام حسین ؓکا سر کوفہ کے بازاروں میں

ابن زیاد کی شقاوت نے اسی پر بس نہیں کیا، بلکہ حکم دیا کہ: ’’امام حسینؓ کے سر کو ایک لکڑی پر رکھ کر ’’کوفہ‘‘ کے بازاروں اور گلی کوچوں میں سر عام گھمایا جائے، تاکہ سب لوگ دیکھ سکیں۔‘‘ چنانچہ یہ سب کچھ بھی ہوا اور پھر اِس کے بعد ابن زیاد نے امام حسین ؓ اور آپؓ کے دیگر اصحاب کے سروں کو یزید کے پاس ملک شام بھیج دیا اور ان کے ساتھ اہل بیتؓ کی خواتین اور بچوں کو بھی قیدی بناکر روانہ کردیا، جب یہ لوگ ملک شام پہنچے تو انعام کے شوق میں حر بن قیس جو اِن کو لے کر گیا تھا فوراً یزید کے پاس پہنچا، یزید نے پوچھا : ’’کیا خبر ہے؟۔‘‘ حر بن قیس نے میدانِ کربلا کے معرکے کی ساری تفصیل بتائی اور آخر میں کہنے لگا کہ: ’’امیر المؤمنین کو بشارت ہوکہ مکمل فتح حاصل ہوئی ہے، اہل بیتؓ سارے کے سارے مارے گئے اور ان کی ساری عورتیں اور بچے قیدی بن کر حاضر ہیں۔‘‘
حضرت زینب ؓ کی دلیرانہ گفتگو

جب وہ یزید کے سامنے پیش کیے گئے تو حضرت زینب ؓنے حضرت علیؓ کے لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: ’’تو کمینہ ہے! نہ تجھے اس کا اختیار ہے اور نہ ہی یزید کو اِس کا حق ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حق ہرگز نہیں دیا، یہ دوسری بات ہے کہ تم ہماری ملت و مذہب سے نکل جاؤ اور ہمارا دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلو!۔ اللہ کے دین سے، میرے باپ کے دین سے، میرے بھائی کے دین سے، میرے نانا کے دین سے، تونے، تیرے باپ نے اور تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے۔تو زبردستی حاکم بن بیٹھا ہے، ظلم کرتا ہے ،گالیاں دیتا ہے اور اپنی قوت سے مخلوق کو دباتا ہے۔‘‘ یہ گفتگو سن کر یزید شرمندہ ہوگیا، اس کے بعد کچھ نہ بول سکا ۔
اِس کے بعد یزید نے اہل بیتؓ کی عورتوں کو اپنی عورتوں کے پاس بھیج دیا۔ حضرت سجاد ؓ ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں یزید کے سامنے لائے گئے ،تو اُنہوں نے یزید کے سامنے آکر کہا کہ: ’’اگر رسول اللہﷺ ہمیں اس طرح قید میں دیکھتے تو قید سے رہا فرمادیتے۔‘‘ یزید نے کہاکہ: ’’سچ ہے۔‘‘اور قید سے رہا کردینے کا حکم دے دیا۔ حضرت سجادؓنے کہا: ’’ رسول اللہﷺ ہمیں اس طرح مجلس میں بیٹھا دیکھتے تو اپنے قریب بلا لیتے۔‘‘ یزید نے ان کو اپنے قریب بلالیا اور کہا کہ: ’’اے علی بن حسینؓ! تمہارے والد ہی نے مجھ سے قطع رحمی کی اور میرے حق کو نہ پہچانااور میری سلطنت کے خلاف بغاوت کی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ کیا جو تم نے دیکھا۔‘‘ جواب میں حضرت سجاد نے قرآنی آیت پڑھ کر اسے لاجواب کردیا۔
عام مؤرخین ابن اثیر وغیرہ نے لکھا ہے کہ امام حسینؓکی شہادت کے بعد تقریباً دو تین مہینوں تک آسمانی فضاء کی یہ کیفیت رہی کہ جب سورج طلوع ہوتا اور دھوپ در و دیوار پر پڑتی تو اتنی سرخ ہوتی تھی جیسے دیواروں کو خون سے رنگا گیا ہو۔‘

Friday, September 6, 2019

موت کا وقت جب آجاتا ہے

جب روح نکلتی ہے توانسان کامنہ کھل جاتاہے ہونٹ کسی بھی قیمت پرآپس میں چپکے ہوہے رہ نہیں سکتے روح پیرکوکھینچتی ہوئی اوپرکی طرف آتی ہے جب پھپڑوں اوردل تک روح کھینچ لی جاتی ہے اور انسان سانس ایک ہی طرف یعنی باہر ہی چلنے لگتی ہے یہ وہ وقت ہوتاہےجب چند لمحوں میں انسان شیطان اورفرشتوں کودنیامیں اپنے سامنے دیکھتاہے

ایک طرف ابلیس اس کےکان میں کچھ مشورے دیتاہے تودوسری طرف اسکی زبان اسکےعمل کےمطابق کچھ الفاظ ادا کرنا چاہتی ہے اگر انسان نیک ہوتواسکادماغ اسکی زبان کو کلمہ شہادت کی ہدایت دیتاہے
اگرانسان کافرہوبددین مشرک یادنیاپرست ہوتاہے تو اسکا دماغ کنفیوژن اورایک عجیب ھیبت کاشکارہوکرشیطان کےمشورے کی پیروی کرتا ہے اور بہت ہی مشکل سے کچھ الفاظ زبان سے اداکرنیکی بھرپورکوشش کرتاہے

یہ سب اتنی تیزی ہوتاہے کہ دماغ کودنیاکی فضول باتوں کوسوچنے کاموقع ہی نہیں ملتاانسان کی روح نکلتے ہوئے ایک زبردست تکلیف زھن محسوس کرتاہے لیکن تڑپ نہیں پاتاکیونکہ دماغ کوچھوڑکرباقی جسم کی روح اسکے حلق میں اکٹھی ہوجاتی ہے
اورجسم ایک گوشت کےبےجان لوتھڑے کی طرح پڑاہواہوتاہے
جس میں کوہی حرکت کی گنجاہش نہیں رھتی

آخرمیں دماغ کی روح بھی کھینچ لی جاتی ہے آنکھیں روح کولےجاتےہوے دیکھتی ہیں اسلیے کہ آنکھوں کی پتلیاں اوپرچڑھ جاتی ہیں یاجس سمت فرشتہ روح قبض کرکےجاتاہے اس سمت کی طرف ہوتی ہیں
اسکےبعدانسان کی زندگی کاسفرشروع ہوتاہےجس میں روح تکلیفوں کےتہہ خانوں سےلےکر آرام کےمحلات کی آہٹ محسوس کرنےلگتی ہےجیساکہ اس سےوعدہ کیا گیا ہے
جودنیاسے گیاواپس کبھی لوٹانہیں
صرف اس لیےکہ کیونکہ اسکی روح عالم اے برزخ کاانتظارکررھی ہوتی ہےجس میں اسکاٹھکانادےدیاجاےگا
اس دنیا میں محسوس ہونے والی طویل مدت ان روحوں کے لیے چند سیکنڈز سےزیادہ نہیں ہوگی یہاں تک کہ اگرکوہی آج سے کروڑوں سال پہلے ہی کیوں نہ مرچکاہو
مومن کی. روح اس طرح کھینچ لی جاتی ہے جیسے آٹےسےبال نکالاجاتاہے
گناہ گار کی روح خارداردرخت پرپڑے سوتی کپڑے کی طرف کھینچی جاتی ہے

اللہ سبحانه وتعالی ھم سبکو موت کے وقت کلمہ نصیب فرماکرآسانی کیساتھ روح قبض فرما

آمین یارب العالمین

*📓در س قـــــــــــرآن کـــریــــــم* *📗تـرجمـــہ : کنـــــــزالایمــــــــان* *📔تفســـــــیر : صــــراط الجـــنان* *📖ســــورہ البــــــــقرہ* *📜آیت نمبـــــــر (199)*



*🌻اعوذ  بالله من الشيطان الرجيم○*
*💕بسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم*
*ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۹۹)*
*📗 تــــرجــــــمہ :*
پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
*📔 تفســــــــــــــــــــــیر*
{ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ: پھر تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے دوسرے لوگ پلٹتے ہیں۔}قریش مزدلفہ میں ٹھہرے رہتے تھے اور سب لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف نہ کرتے، جب لوگ عرفات سے پلٹتے تو یہ مزدلفہ سے پلٹتے اور اس میں اپنی بڑائی سمجھتے، اس آیت میں انہیں حکم دیا گیا کہ وہ بھی سب کے ساتھ عرفات میں وقوف کریں اور ایک ساتھ واپس لوٹیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۹، ۱ / ۱۴۱)یہی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے ۔
اسلامی احکام سب کے لئے برابر ہیں :
اس سے معلوم ہواکہ اسلامی احکام برادریوں کے اعتبار سے نہیں بدلتے اور نہ ہی کسی کے رتبے اور مقام کی وجہ سے ان میں تبدیلی ہوتی ہے بلکہ امیر و غریب، گورے کالے، عربی عَجمی سب کے لئے اسلام کے احکام برابر ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں :قریش ایک مخزومی عورت کے بارے میں بہت ہی پریشان تھے جس نے چوری کی تھی، لوگ کہنے لگے کہ اس بارے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے گفتگو کون کرے؟ بعض آدمیوں نے کہا کہ حضرت اسامہ بن زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سوا ا یسی جرأت اور کون کر سکتا ہے کیونکہ وہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے چہیتے ہیں۔جب حضرت اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس بارے میں حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے گفتگو کی تو آپ نے فرمایا:’’کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟پھر آ پ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا:’’بے شک تم سے پہلے لوگ اسی لئے ہلاک ہوئے تھے کہ جب کوئی مالدار چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی غریب آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے۔خدا کی قسم!اگرمحمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔(بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، ۵۶-باب، ۲ / ۴۶۸، الحدیث: ۳۴۷۵)
تاریخ اسلام میں مسلمان قاضیوں کے ایسے بے شمار واقعات موجودہیں جس میں انہوں نے کسی کے رتبے اور قرابت داری کی پرواہ کئے بغیر شریعت کے احکام کو نافذ کیا،انہی واقعات میں سے ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔چنانچہ حضرت سعد بن ابراہیم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ خلیفہ ولید بن یزید کی طرف سے مدینہ منورہ کے قاضی مقرر تھے ۔ایک مرتبہ ولید نے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اپنے پاس ملک شام میں بلایا، چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک بااعتماد شخص کو مدینہ منورہ میں قاضی بناکر خود ملک شام کی جانب چل دیئے۔ جب آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شام کی سر حد پر پہنچے تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو شہر سے باہر ہی روک دیا گیااور کافی عرصہ تک داخلہ کی اجازت نہ ملی ۔ ایک رات آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مسجد میں مصروف عبادت تھے کہ ایک شخص کو دیکھا کہ نشے کی حالت میں بدمست ہے او رمسجد میں گھوم رہا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے پوچھا : ’’یہ شخص کون ہے ؟ لوگو ں نے بتا یا: یہ خلیفہ ولید بن یزید کا ماموں ہے، اس نے شراب پی ہے اور اب نشے کی حالت میں مسجد کے اندر گھوم پھر رہا ہے۔ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو بہت جلال آیا کہ یہ کتنی دیدہ دِلیری سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر رہا ہے اور اس کے پاک دربار میں ایسی گندی حالت میں بے خوف گھوم پھر رہا ہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے غلام کودُرَّہ لانے کا حکم فرمایا۔ غلام نے درہ (کوڑا) دیا ۔ درہ لے کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا:’’ مجھ پر لازم ہے کہ میں اس پر شرعی سزا نافذ کروں چاہے یہ کوئی بھی ہو، اسلام میں سب برابر ہیں۔ چنانچہ آپ آگے بڑھے اور مسجد میں ہی اس کو80 کوڑے مارے ۔ وہ شخص80کوڑے کھانے کے بعد نہایت زخمی حالت میں خلیفہ ولید بن یزید کے پاس پہنچا۔ خلیفہ نے جب اپنے ماموں کی یہ حالت دیکھی تو بہت غضبناک ہوا اور پوچھا’’ تمہاری یہ حالت کس نے کی؟ کس نے تمہیں اِتنا شدید زخمی کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا: ایک شخص مدینہ منورہ سے آیا ہوا تھا، اس نے مجھے80کوڑے سزا دی اور کہا: ’’یہ سزا دینا اور حد قائم کرنا مجھ پر لازم ہے۔ خلیفہ نے جب یہ سنا تو اس نے فوراً حکم دیا کہ ہماری سواری تیار کی جائے، اسی وقت حکم کی تعمیل ہوئی اور خلیفہ کچھ سپاہیوں کو لے کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس پہنچ گیا اور آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے کہا:’’ اے ابو اسحاق ! تو نے میرے ماموں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا، اسے اتنی درد ناک سزا کیوں دی؟ حضرت سعد بن ابراہیم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا:’’ اے خلیفہ! تونے مجھے قاضی بنایا تا کہ میں شریعت کے احکام نافذ کروں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دوں۔ چنانچہ جب میں نے دیکھا کہ سرِعام اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جا رہی ہے اور یہ شخص نشے کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں گھوم پھر رہا ہے اور کوئی اسے پوچھنے والا نہیں تو میری غیرت ایمانی نے اس بات کو گوارا نہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی دیکھوں اور تمہاری قرابت داری کی وجہ سے چشم پوشی کروں اور شرعی حدو د قائم نہ کروں۔(عیون الحکایات، الحکایۃ *

*نعمتوں کا شکر اداکرنا سیکھیے*


                    السلام علیکم
ڈاکٹر خالد الشافعی مصری ہیں اور مصر کے نیشنل اکنامکس سٹڈی سنٹر میں منیجر ہیں۔ ان کے ایک حادثاتی تجربے سے کچھ سیکھیے۔ لکھتے ہیں:
اسی گزرے اٹھارہ مارچ کو عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکلا تھا کہ میرا توازن بگڑا، گرا اور پاؤں ٹوٹ گیا۔ ہسپتال گیا، ایکسرے کرایا، ڈاکٹر نے تشخیص کیا کہ پاؤں میں ٹخنے اور انگلیوں کو آپس میں جوڑنے والی ہڈی (پانچویں میٹیٹسل بیس) ٹوٹ گئی ہے۔ پاؤں پر پلستر ٹانگ اور گھٹنے کو ملا کر چڑھا دیا گیا۔ ڈاکٹر نے نوید سنائی کہ پلستر ڈیڑھ سے دو مہینے تک چڑھا رہے گا۔ میں بڑا حیران۔ یہ ڈاکٹر کہتا کیا ہے؟ بس ایک چھوٹا سا کنکر میرے پیر کے نیچے آیا تھا۔ نہ کسی گاڑی نے مجھے ٹکر ماری ہے اور نہ ہی میں کسی اونچائی سے گرا ہوں۔

اس دن شام کو گھر واپس پہنچنے پر مجھ پر بہت ساری حقیقتیں کھلنا شروع ہوئیں، بہت سارے سبق اور بہت ساری عبرتیں ملنا شروع ہوئیں۔ زندگی میں پہلی مرتبہ مجھ پر پاؤں کی اہمیت آشکار ہونا شروع ہوئی اور مجھے اپنے پاؤں کی ایسی ایسی خدمات اور ایسے ایسے استعمالات کا پتہ چلنا شروع ہوا جنہیں میں نے آج تک محسوس بھی نہیں کیا تھا۔ میرے لیے حمام جانا ایسا مشن بن گیا جس کے لیے باقاعدہ تیاری، منصوبہ سازی، ترتیب اور شدید توجہ کی ضرورت ٹھہری۔ وضو کرنا، نماز پڑھنا، حوائج ضروریہ کیلئے جانا ایسے کام بن گئے جن کیلئے مافوق الخیال تیاریاں کرنا پڑتی تھیں۔ اس حادثے کے دوسرے دن فجر کے وقت حمام چلا گیا، وضو کے بعد ایسا گرا کہ ابھی تک یقین نہیں آیا کہ بچ کیسے گیا ہوں، حالانکہ یہ والا گرنا سیدھی سیدھی موت یا کم از کم فالج تھا۔

گھر میں میری اکیلے نقل و حرکت بند ہوگئی، ضروری ٹھہرا کہ کوئی نہ کوئی میری خدمت یا میرا خیال رکھنے کیلئے ہمہ وقت موجود رہے۔سارے گھر والوں کیلئے باہر آنا جانا باقاعدہ صلاح مشورے، باری بندی اور ترتیب سے مشروط ٹھہرا۔ پورے گھر کا نظام اس چھوٹے سے حادثے کی وجہ سے درہم و برہم ہوگیا۔ میرے لیئے حمام بہت دور کی چیز بن گئی اور کچن تو دوسرے براعظم پر واقع مقام بن گیا۔ مجھے پہلی بار ایسے لوگوں کے محسوسات جاننے کا تجربہ ہوا جنہیں کسی مرض نے یا ان کے بڑھاپے نے بٹھا دیا ہو، یا جن کی زندگی دوسروں کی مدد کی محتاج بن گئی ہو یا دوسروں کی مدد کے بغیر ناممکن بن کر رُک گئی ہو۔ یقین کیجیے کہ میں، ایک پاؤں کی اتنی اہمیت بھی ہوسکتی ہے، اس کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میرا ایک پاؤں کیا خراب ہوا میری زندگی ہی معطل ہو کر رہ گئی، میرا سب کچھ ہی بدل کر رہ گیا۔

ایک دن کچھ وقت کے لیے گھر پر اکیلا تھا۔ بوڑھوں والے واکر کو پکڑ کر ایک ٹانگ کے ساتھ کچن میں گیا، اپنے لیے ایک چائے بنا کر ہٹا تو مجھ پر ایک نئی اور ایسی حقیقت کھلی جو کبھی بھی میرے دماغ میں نہ آسکتی تھی، اور وہ یہ کہ چائے کا کپ پکڑ کر واپس کیسے جاؤں تاکہ مزے سے ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھ کر پی سکوں۔ اب یہ عقدہ کھلا کہ چائے کا کپ پکڑ کر اپنے پیروں پر چلتے ہوئے آنا بھی ایک ایسی نعمت ہے جس پر بہتوں کا خیال ہی نہیں جاتا۔

ایک چھوٹے سے کنکر نے میری زندگی کے سارے معمولات ہی بدل کر رکھ دیئے۔ صبح کو اپنے پیروں پر چل کر نکلا تھا شام کو دوستوں کے کندھوں پر سوار لوٹا۔

دو اپریل کی رات کو مجھے ٹوٹے ہوئے پیر والی ٹانگ میں شدید اور ناقابل برداشت درد ہوا۔ آدھی رات کو بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچے۔ جلدی سے پلستر کاٹا گیا، سی ٹی سکین ہوا تو پتہ چلا کہ ٹانگ کی اندرونی وریدوں میں خون کا بہاؤ رُک گیا تھا اور پتہ یہ چلا کہ یہ پلستر کی وجہ سے ٹانگ میں حرکت نہ ہونے کی وجہ سے ہوا تھا۔ درد کی شدت سے میری دھاڑیں نکل رہی تھیں۔ اس بار مجھے ایک نئے تجربے سے گزرنا پڑا۔ مجھے یکے بعد دیگرے پیٹ میں کئی ٹیکے لگائے گئے۔ ان ٹیکوں کا اپنا درد ایک نئی قیامت تھی۔ اور اس قیامت خیز حالت میں، میں اس ٹیکے کے بارے میں نہیں جو میرے پیٹ میں لگا ہوتا تھا، بلکہ اس ٹیکے کے بارے میں سوچتا تھا جو لگائے جانے کیلئے ابھی تیار ہو رہا ہوتا تھا۔ مجھے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ کھانسی کا شدید دورہ پڑا تو ڈاکٹر کو شک گزرا کہ وریدوں میں خون کی رکاوٹ اندرونی سوجن پیدا کر رہی ہے اور ہو نہ ہو اس حالت میں میرے پھیپھڑے متاثر ہوچکے ہیں۔ مسجد کے سامنے پاؤں کے نیچے آنے والا کنکر اب میرے حلق میں اٹک جانے والا کانٹا بن گیا تھا۔ وعظ اور عبرت کی پوسٹیں لگانے والے کاتب کی زندگی بذات خود خوفناک قسم کی پوسٹ بننے جا رہی تھی۔

میری آنکھوں کے سامنے میری گزری زندگی کے سارے مناظر فلم کی طرح چلتے تھے۔ جو بات رہ رہ کر یاد آتی تھی وہ یہ تھی کہ جب میں عام سی زندگی جیتا تھا تو کتنی بے بہا نعمتوں میں گھرا ہوتا تھا۔ رہ رہ کر خیال آتا کہ اُن نعمتوں کا ویسا شکر ادا کیوں نہ کرتا تھا جیسا اُن کے شکر کا حق بنتا تھا۔ ہسپتال میں میرے ساتھ والے کمرے میں داخل ایک بزرگ کے کمرے سے ابھی ابھی انسٹرومنٹ ہٹا کر لے جا رہے تھے۔ اس منظر سے مجھے اوروں کا نہیں اپنا خاتمہ نظر آنا شروع ہوگیا تھا۔

ہسپتال میں ہر ایک بیڈ ایک کہانی تھا اور ہر کہانی کے پیچھے سبق، خواب، کامیابیاں، ناکامیاں اور امیدوں کے بنتے بگڑتے قصے۔ ہسپتال میں انواع و اقسام کے لوگ، مریض یا ملازمین۔ اور مریضوں کی پھر آگے قسمیں۔ اپنی صحت اور زندگی سے مایوس، یا پھر بھرپور امید والے بے خوف لوگ، ورثاء سب ہی خوف اور امید میں لٹکے ہوئے۔

ملازمین کی بھی اقسام۔ ڈاکٹر اپنی ڈگری کی قیمت سے واقف وجاہت اور متانت کے عکاس۔ نرسیں لگ بھگ سب کام نمٹاتے ہوئے مگر قدر و قیمت نہ پانے کی شاکی۔ صفائی کرنے والے اپنی حالت اور دگرگوں مالی حالت کے ہاتھوں ناکام زندگی سے شاکی اور اُکھڑے اُکھڑے۔

ہسپتال میں ہر مریض کی ساری زندگی جیسے رُکی ہوئی، سب پریشانیوں پر بھاری بس ایک پریشانی کہ کسی طرح ہسپتال سے نکل کر گھر پہنچ جائے۔ ملازمین کے لیے مریضوں کے درد اور بیماریاں بس ایک کام اور روٹین۔ ادھر ڈیوٹی ختم اُدھر وہ گھر روانہ۔ بھلے مریض کی جان ایسے نکلے یا ویسے۔ بہرحال میں نے جیسے تیسے رات ٹیکوں اور سرنجوں کے درد سہتے گزاری۔ جنہیں روز کے ٹیکے لگتے ہیں ان کے بارے میں سوچ سوچ کر مجھے ان سے ہمدردی محسوس ہو رہی تھی۔

میرے سینے کے ایکسریز(x-rays) لیے گئے اور اب دوسری صبح کا انتظار تاکہ ڈاکٹر نتیجہ بتائے۔ دوسرے دن میری ساری زندگی ڈاکٹر کے دو کلموں پر اٹکی ہوئی تھی جس نے ایکسریز دیکھ کر رپورٹ دینا تھی۔ ڈاکٹر ایکسرے اٹھائے وارڈ میں داخل ہوا اور میں نتیجہ جاننے کیلئے جاں بلب سولی پر لٹکا ہوا۔

الحمد للہ، ایکسرے بالکل کلیئر ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی خوفناک اور ڈراؤنی فلم کا اختتام۔

اچھا، اصلی بات تو ابھی وہیں کی وہیں۔ پاؤں ٹوٹا ہوا، پلستر لگانا ممنوع ٹھہرا۔ اب پاؤں کے علاج کی جگہ وریدوں کا علاج فوقیت پاچکا۔ مطلب صاف صاف یہی بنتا تھا کہ اب اپنے پیروں پر چلنے پھرنے کیلئے انتظار اور بھی لمبا ہوگا ۔پلستر نہ ہونے کی وجہ سے پاؤں سوج کر کُپا بن گئے، ساتھ ساتھ ٹانگ بھی نیلی پڑ گئی تھی۔ سارا زور ایک ٹانگ پر پڑنے کی وجہ سے، ٹھیک والی ٹانگ کے پاؤں اور گھٹنے میں شدید درد رہنے لگا۔ پیروں کے بجائے ہاتھوں سے سہارا لینے کی وجہ سے ہاتھ دُکھنے لگے، حرکت کم ہوئی تو وزن تیزی سے بڑھنا شروع ہوگیا ۔مہینہ بھر ٹوٹے پاؤں کو حرکت نہ دینے کی وجہ سے پیر کے مسلز تقریباً ایسے ہوگئے جیسے مر ہی چکے ہوں۔

انسان کی کمزوری اور ضعیفی پر پڑھا تو بہت تھا مگر ایسی کمزوری اور ضعف سے اب واسطہ پڑا تھا۔ اور یہ سلسلہ شیطان کی آنت کی طرح لمبے سے لمبا ہوتا جا رہا تھا۔

”کب میں عام بندے کی طرح چل سکوں گا“ کے بارے میں سوچنا خواب سا لگتا تھا۔ مجھے رہ رہ کر یاد آتا تھا کہ جب کوئی مجھ سے حال احوال پوچھتا تھا تو میں اکثر یکسانیت سے اکتایا ہوا مختصراً کہہ ڈالتا تھا کہ بس ٹھیک ہوں۔ اور یہ بس ٹھیک ہوں کتنی عظیم نعمت ہوتی ہے مجھے اب پتہ چل رہا تھا۔ کسی نعمت کو بس کہہ دینا انسان کو اس نعمت کی قدر ہی بُھلا دیتا ہے۔ خبردار، کہیں ایسا نہ ہو کہ نعمت کی قدر کا احساس اُس نعمت کے چِھن جانے کے بعد ہو۔ کسی نعمت کو کبھی بھی اتنا ہلکا نہ لیا جائے کہ اس نعمت کو نعمت سمجھنے کا شعور ہی جاتا رہے۔

مجھے بیماری اور جیل کی قید نے اس آیت کا  ٹھیک طریقے سے مطلب سمجھایا ہے کہ ”اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے بے شک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے۔“

میرے فیس بک کی ڈی پی پر میری چلتے ہوئے کی فوٹو لگی ہوئی ہے۔ میں جب بھی فیس بک کھولتا ہوں اور اپنی فوٹو پر نظر پڑتی ہے تو مجھے اپنے بس ٹھیک ہوں کے الفاظ عظیم القدر نعمت لگتے ہیں۔

ایک اور بات بتاؤں؟ آج پینتیسواں دن ہے اور ابھی تک میرا ماتھا سجدے کے لیے زمین پر نہیں پڑ سکا۔ چارپائی پر بیٹھے بیٹھے وضو اور لیٹے لیٹے نماز ہو رہی ہے کیونکہ اب میرا بیٹھنا بھی منع ہوچکا ہے۔ نماز کا شوق مجھے پاگل کیے جا رہا ہے۔

مصیبتوں کے بھی کیا رنگ نکلتے ہیں: مصیبت تاکہ صبر کرنا آجائے، مصیبت جو شکر کرنا سکھا دے، مصیبت جو اجر و ثواب کا باعث بن جائے، مصیبت جو سرزنش بن جائے، مصیبت جو  گزرے اوقات کی جانچ پڑتال کرنا بتا دے اور مصیبت جو ثابت قدمی سکھا دے۔

آخر میں، میں نے جو کچھ لکھا ہے اس کے لیے اپنی امی سے معافی مانگتا ہوں، کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ پڑھ کر بہت روئے گی۔ میں آج تک اپنی بیماریوں اور پریشانیوں کے سارے راز اُس سے اس لیے چھپاتا آیا ہوں کہ وہ میری وجہ سے کبھی بھی کبیدہ خاطر نہ ہونے پائے۔

اے اللہ اپنے ہر مریض بندے کو ایسی شفا دے جس کے بعد کوئی دوسری بیماری نہ ہو۔ آمین یا رب العالمین ۔

(ترجمہ: محمد سلیم)


Monday, September 2, 2019








📓در س قـــــــــــرآن کـــریــــــم*
*📗تـرجمـــہ : کنـــــــزالایمــــــــان*
*📔تفســـــــیر : صــــراط الجـــنان*
*📖ســــورہ البــــــــقرہ*
*📜آیت نمبـــــــر (197)*
*🌻اعوذ  بالله من الشيطان الرجيم○*
*💕بسْــــــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم*
*اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ-فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَۙ-وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ﳳ-وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘-وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ(۱۹۷)*
*📗 تــــرجــــــمہ :*
حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے تو جو ان میں حج کی نیت کرے تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے اور توشہ ساتھ لوکہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو۔
*📔 تفســــــــــــــــــــــیر*
{اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ: حج چند معلوم مہینے ہیں۔} حج کے چند احکام بیان کرنے کے بعد یہاں مزید حج کے احکام و آداب بیان کئے جا رہے ہیں۔ فرمایا گیا کہ حج کے چند مشہور و معروف مہینے ہیں یعنی شوال، ذوالقعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ۔ حج کے ارکان صرف ساتویں ذی الحجہ سے بارھویں تک ادا ہوتے ہیں۔ مگر شوال، ذیقعدہ کو بھی حج کے مہینے اسی لئے کہا گیا ہے کہ ان میں احرام با ندھنا بلا کراہت جائز ہے اور ان سے پہلے حج کا احرام باندھنا مکروہ ہے۔
{فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ:  تو جو ان میں حج کو لازم کرلے۔} یعنی جو شخص احرام باندھ کر یا ہَدی کا جانور چلا کرحج کو اپنے اوپر لازم کرلے اس پر یہ چیزیں لازم ہیں : ۔
(1)…رفث سے بچنا۔ رَفَث سے مراد ہے، ہم بستری کرنا یا عورتوں کے سامنے اس کا ذکر کرنا یا فحش کلام کرنا۔(ہدایہ، کتاب الحج، باب الاحرام،۱ / ۱۳۵)
البتہ نکاح کرسکتا ہے۔
(2)…فسوق سے بچنا۔ فسق کا معنیٰ ہے گناہ اور برائی کے کام۔
(3)…جدال سے بچنا ۔ جِدال سے مراد ہے ،اپنے ہم سفروں سے یا خادموں سے یا غیروں کے ساتھ جھگڑنا۔(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۷، ص۹۵)
یاد رہے کہ گناہ کے کام اور لڑائی جھگڑا تو ہر جگہ ہی ممنوع ہے لیکن چونکہ حج ایک عظیم اور مقدس عبادت ہے اس لئے اس عبادت کے دوران ان سے بچنے کی بطورِ خاص تاکید کی ہے۔
{وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ: اور تم جو بھلائی کرو ۔} برائیوں کی ممانعت کے بعد نیکیوں کی ترغیب دی گئی ہے کہ بجائے فسق کے تقویٰ اور بجائے لڑائی جھگڑا کے اخلاق حمیدہ اختیار کرو۔
{وَ تَزَوَّدُوْا: اور زادِ راہ لو۔} شانِ نزول: بعض یمنی لوگ حج کے لیے بغیر سامانِ سفر کے روانہ ہوتے تھے اور اپنے آپ کو متوکل یعنی’’توکل کرنے والا‘‘ کہتے تھے اور مکہ مکرمہ پہنچ کر لوگوں سے مانگنا شروع کردیتے اور کبھی غصب اور خیانت کے مرتکب بھی ہوتے ،ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ:  ۱۹۷، ۱ / ۱۳۹)
اور حکم ہوا کہ سفر کا سامان لے کر چلو ، دوسروں پر بوجھ نہ ڈالواور سوال نہ کرو کہ یہ تمام چیزیں توکل اور تقویٰ کے خلاف ہیں اور تقویٰ بہترین زادِ راہ ہے۔نیز یہ بھی سمجھادیا گیا کہ جس طرح دنیوی سفر کے لیے سامانِ سفر ضروری ہے ایسے ہی سفر آخرت کے لیے پرہیز گاری کا سامان لازم ہے۔
{وَ اتَّقُوْنِ: اور مجھ سے ڈرو۔}عقل والے کہہ کر اس لئے مخاطب کیا تاکہ لوگوں کو سمجھ آجائے کہ عقل کا تقاضا خوفِ الہٰی ہے۔ جو اللہ  تعالیٰ سے نہ ڈرے وہ بے عقلوں کی طرح ہے۔ عقل وہی ہے جو اللہ  تعالیٰ سے خوف پیدا کرے اورجس عقل سے آدمی بے دین ہو وہ عقل نہیں بلکہ بے عقلی ہے۔ ابو جہل بے عقل تھا اور حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عقلمند تھے۔
                                
☆▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬▬▬▬

Sunday, September 1, 2019

Learn the Qur'an: *اسلام علیکم رحمتہ اللہ وبرکاتہ*

Learn the Qur'an: *اسلام علیکم رحمتہ اللہ وبرکاتہ*: *مبارک ھے ان لوگوں پر جن کے پاس نصیحت کے الفاظوں کے ساتھ انکے اپنے نیک عمل ھیں جس دن قرآن اور مسلمانوں کے درمیان سے فرقے ہٹ جائیں وہ الل...

*اسلام علیکم رحمتہ اللہ وبرکاتہ*


*مبارک ھے ان لوگوں پر جن کے پاس نصیحت کے الفاظوں کے ساتھ انکے اپنے نیک عمل ھیں جس دن قرآن اور مسلمانوں کے درمیان سے فرقے ہٹ جائیں وہ اللّٰہ کا محبوب بندہ بن جائے گا زندگی میں آنے والی آزمائش ایک نیا سبق سیکھاتی ھے جوکہ خالق کے قریب کرتی جاتی ھے جب ایمان کمزور ھو جائے تو گھر کی عزت محفوظ نہیں رھتی جبکے غیرت رقص کرتی ھے جو شخص ناراض ھونے پر آپ کا راز کسی دوسرے پر ظاھر کر دے تو آپ انتخاب کرنے میں کامیاب اس لیے نہیں ھوئے کہ آپ اللّٰہ سے دور ہوگئے جب لوگ تمہیں تکلیف میں اکیلا چھوڑ دیں تو سمجھ جائیں اللّٰہ آپ کو اپنے راستے پہ لے جائیگا جب آپ جوانی میں زنا کریں گے تو آپکی معصوم اولاد آپکا قرض ادا کرے گی آپ اپنا مستقبل تو نہیں بدل سکتے اپنی عادت ضرور بدلو کیونکہ یہ ھی مستقبل بدلے گی*

*👈شان سیدنا عمر فاروق رضی اللّه عنہ⚘*


امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر جہاد کرنے کے لیے روانہ فرمایا جنگ شروع ہوگئی اسلامی لشکر کھلے میدان میں  لڑ رہا تھا کچھ دیر بعد دشمن اسلامی لشکر کو چار جانب سے گھیر کر پسپا کرنے کی کوشش میں لگ گیا جب جنگ فیصلہ کن مرحلےمیں داخل ہوئی تو اسلامی لشکر ’’سخت آزمائش ‘‘ کا شکار ہوگیا۔
یہ صورتحال تو نہاوند میں تھی ایران کے شہر ہمدان کے جنوبی حصے میں پہاڑوں کے پاس واقع ایک بستی جس کا نام ’’نہاوند‘‘ ہے دوسری طرف مدینہ منورہ میں عین اس وقت امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسجد نبو ی میں منبر رسول پر جلوہ افروز ہو کر جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔
(بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ خطبہ بھی ارشاد فرما رہے تھے اور اس کے ساتھ کفر و اسلام کی اس جنگ کو بھی دیکھ رہے تھے) جب اسلامی لشکر پر کفار کے غالب ہونے کے آثار دیکھے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہیں (مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے خطبہ کے الفاظ کو چھوڑا اور ) منبر سے اسلامی لشکر کی مدد فرماتے ہوئے لشکر کے سپہ سالار ’’حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ‘‘ کو ان الفاظ میں جنگی ہدایت ارشاد فرمائی:
’’یَاسَارِیَۃُ الْجَبَلَ یعنی اے ساریہ پہاڑ کو اپنی آڑ بنا کر لڑو۔‘‘

(حیرانگی کی بات کہ مدینہ منورہ سے) حضرت سیِّدُنا ساریہ بن زنیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سینکڑوں میل دُور نہاوند کی سرزمین پر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ حکم سن لیا مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگ بہت حیران ہوئے کہ آج امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ دوران خطبہ ایسا کیوں کیا بہرحال اُدھر نہاوند میں سیدنا ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فوراً ’’لَبَّیْک‘‘کہتے ہوئے اس پر عمل کیا(اور پہاڑ کو آڑ بنا کر جب جنگ کی تو)۔
امیر المؤمنین کے حکم پر عمل سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا مجاہدین اسلام کی بہادری اور دلیری دیکھ کر کفار کے قدم اکھڑنے لگے اور میدان جنگ سے بھاگنے میں ہی عافیت جانی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ’’دستگیر ی‘‘ کے سبب لشکر اسلام نے فتح پائی۔
قاصد نے آکر تصدیق کی:
اس واقعے کے چند دن بعد حضرت سیِّدُنا ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قاصد آیا اور جنگ کی کیفیت بتاتے ہوئے کہنے لگا:
میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کر یہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو ۔
حضرت ساریہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی آواز ہے یہ کہا اور فوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کر کے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اور دم زدن میں اسلامی لشکرنے کفار کی فوجوں کو روند ڈالا کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا

(مشکوٰۃ باب الکرامات ، ص۵۴۶وحجۃ اللہ  ج۲،ص۸۶۰وتاریخ الخلفاء،ص۸۵)

(دلائل النبوۃ، ج۶، ص۳۷۰۔ مشکاۃ المصابیح، ج۲، ص۴۰۱، حدیث:۵۹۵۴)

(اسد الغابۃ ، ساریۃ بن زنیم، ج۲، ص۳۶۴ملتقطا۔دلائل النبوۃ لابی نعیم، ص۳۴۵،الرقم:۵۲۸ملتقطا)
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺒﺮﮔﯿﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭨﯿﮏ ﻟﮕﺎ ﻟﯽ۔ ﺍٓﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﯽ ! ﺟﺎﻭٔ ﺍﭨﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻼ ﺩﻭ۔ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻣﺎﮞ ! ﮐﯿﺎ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮮ ﺑﯿﭩﯽ ! ﺟﺎﻭٔ ﺑﮭﯽ، ﺑﮭﯽ، ﺟﺎﻭٔ ﺑﮭﯽ، ﺑﮭﯽ، ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻼ ﺩﻭ، ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﮞ ! ﺍﮔﺮ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ
ﺗﻮ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺭﺏ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻧﯿﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﺍٓﺋﯽ، ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻡ ’’ ﺍﺳﻠﻢ ‘‘ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺮﺍﮦ ﺗﮭﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﺍﺳﻠﻢ ! ﺍﺱ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﮕﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍٓﮔﮯ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ۔ ﺟﺐ ﺻﺒﺢ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﺍﺳﻠﻢ ! ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﻭٔ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺲ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﮨﮯ؟ ﺍﺳﻠﻢ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻨﻮﺍﺭﯼ، ﻏﯿﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﺍٓﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ؟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺎﭖ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺳﺒﻘﺖ ﻧﮧ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺻﻢ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ! ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍٓﭖ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻧﮑﺎﺡ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﻭﺭ ‏( ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ‏) ﻋﺎﺻﻢ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺩﯼ۔ ﻋﺎﺻﻢ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺑﻨﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺑﻦ ﻣﺮﻭﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺎﺩﻝ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺭﺍﺷﺪ ﺗﮭﮯ
  1. *اگر آپ کو یہ تحریر (Post) پسند آئی ہو تو اپنے دوست و احباب کو ضرور شیئر کریں*

*سورۂ فاتحہ کے فضائل*




احادیث میں اس سورت کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے4فضائل درج ذیل ہیں :

(1) … حضرت ابوسعید بن مُعلّٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،
 میں نماز پڑھ رہا تھا تو مجھے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ
نے بلایا لیکن میں نے جواب نہ دیا۔(جب نماز سے فارغ ہو کر بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوا تو)میں نے عرض کی:’’یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں نماز پڑھ رہا تھا ۔تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:
’’اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ ‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں بلائیں۔(انفال: ۲۴)
پھر ارشاد فرمایا:’’ کیا میں تمہیں تمہارے مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کریم کی سب سے عظیم سورت نہ سکھاؤں ؟پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا،جب ہم نے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کی:یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ نے فرمایا تھا کہ میں ضرور تمہیں قرآن مجید کی سب سے عظمت والی سورت سکھاؤں گا۔ارشاد فرمایا: ’’وہ سورت ’’ *اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘* ہے ،یہی ’’سبع مثانی‘‘ اور ’’قرآن عظیم ‘‘ہے جو مجھے عطا فرمائی گئی۔

 (بخاری، کتاب فضائل القراٰن، باب فاتحۃ الکتاب، ۳ / ۴۰۴، الحدیث:۵۰۰۶) https://quranteaching123.blogspot.com/?m=1

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام ( دریائے نیل کے نام )


***************
  🖊 واقعہ یوں ہے کہ آپ  نے جب حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مصر کا گورنر مقررکیا - ایک دن مصر کے باشندے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر بولے کہ حضور! ہمارے ملک میں پہلے سے یہ رسم چلی آرہی ہے کہ جس سال دریائے نیل میں باڑھ  نہیں آتی اور وہ خشک ہونے لگتا ہے تو ہم لوگ ایک کنواری لڑکی کو بہترین کپڑوں اور عمدہ زیوروں سے سجاکر اسے دریائے نیل کی بھینٹ چڑھا تے ہیں - جب وہ لڑکی دریا میں پھینک دی جاتی ہے تو دریا بڑے جوش وخروش سے بہنے لگتا ہے - پانی کی خوب بہتات ہوتی ہے پھر اسی پانی سے ہماری کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں امسال بھینٹ چڑھانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اور اس وقت دریائے نیل خشک ہوتا جارہا ہے اگر اس کو بھینٹ نہ دی گئی تو وہ بالکل خشک ہوجائےگا اور ہم لوگ  قحط سالی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوجائیں گے -
حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ پہلے جو کچھ بھی ہوا وہ ہوا لیکن اب یہاں اسلام آگیا ہے - اسلام کا مزاج خونی رسم کو کبھی برداشت نہیں کرسکتا - مصری لوگ مجبور ہوکر دریائے نیل کو لڑکی کی بھینٹ نہ دے سکے جب انہوں نے دیکھا کہ اب دریائے نیل میں برائے نام پانی رینگ رہا ہے تو قحط سالی کے خوف سے وہ لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسری جگہ  کوچ  کرنے کی تیاری کرنے لگے - حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ نازک معاملہ دیکھ کر سرکار فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں مدینہ منورہ ایک خط بھیجا جس میں دریائے نیل اور مصریوں کی خونی رسم کا حال تحریر کیا -
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام فرمان بھیجا کہ تم نے اس خونی رسم کو بند کرکے  اچھا کیا - میں تمہارے اس دریائے نیل کے نام ایک پرچہ بھیج رہا ہوں تم اس پرچہ کو دریائے نیل میں ڈال دو - پرچہ کا مضمون یہ تھا
من عبد الله عمر امير المؤمنين الىٰ نيل مصر ط  اما بعد فان كنت يجرئ من قبلك فلا تجر وان كان الله يجر يك فاسئل الله الواحد القهار ان يجريك -

  ترجمہ:  اللہ تعالیٰ کے بندے مسلمانوں کے حاکم عمر کی طرف سے دریائے نیل کے نام  یہ خط ہے - اے دریا اگر تو اپنے آپ سے جاری رہتا ہے تو نہ جاری ہو اور اگر تجھے اللہ جاری رکھتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے،  جو  اکیلا زبردست  ہے درخواست کرتا ہوں کہ  تجھے جاری کردے -

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے مطابق حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا خط دریائے نیل میں ڈال دیا - دنیا حیرت میں تھی کہ کاغذ کے اس پرچہ سے دریائے نیل کیسے رواں ہوسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم کہ پرچہ  پڑنے  کے بعد دریائے نیل کے بہاؤ میں تیزی پیدا ہوتی گئی یہاں تک کہ رات گزر کر صبح ہوتے ہوتے اس میں سولہ گز پانی اوپر بڑھ  گیا اور دریا موجیں مارکر بہنے لگا - نیز لڑکی کی بھینٹ دینے کی خونی رسم ہمیشہ کیلئے مٹ گئی
(حوالہ تعمیر ادب حصہ پنجم صفحہ ۸۳ تا ۸۵ )
مصنف: حضرت علامہ ومولانا بدر الدین احمد صاحب  قبلہ قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ

                        سچ کہا کسی نے
جب ان کے گدا بھر دیتے ہیں شاہان زمانہ کی جھولی
محتاج  کا جب  یہ  عالم  ہے مختار کا عالم کیا ہوگا